چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس

میسرز ہائیر پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ، ہائیرایجوکیشن کمیشن کے افسران اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری

بدھ مئی 17:28

چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب) نے واضح کیا ہے کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اورانوسٹی گیشن مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جو حتمی نہیں، نیب تمام متعلقہ افراد سے بھی قانون کے مطابق ان کا مؤقف معلوم کرے گا تاکہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشن کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

اس بات کا فیصلہ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا جو چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلوںکی تفصیلات کے مطابقنیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے میسرز ہائیر پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ، ہائیرایجوکیشن کمیشن کے افسران اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔

(جاری ہے)

ملزمان پر مبینہ طور پر پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نان ڈیوٹی پیڈلیپ ٹاپس مہنگے داموں ایچ ای سی کو فروخت کرنے کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے این ٹی ڈی سی کی انتظامیہ / بورڈ آف ڈائیریکٹرز اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے فیاض چوہدری کومطلوبہ تجربہ اور اہلیت کے بغیر منیجنگ ڈائریکٹر این ٹی ڈی سی تعینات کرنے کا الزام ہے۔

جس سے قومی خزانے کو 20.4ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سی ڈی اے کے افسران/اہلکاران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر 2 ارب روپے مالیت کی زمین سیکٹر ای الیون اسلام آباد میں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر شکایت کی جانچ پڑتال کی منظوری دی۔

ملزمان پر مبینہ طور پرمن پسند افراد کو قواعدو ضوابط کے بر خلاف بعض مقامات پر ٹول پلازے الاٹ کرنے اور این ایچ اے کی انتظامیہ کی طرف سے راولپنڈی میں غیرقانونی طور پر سی این جی سٹیشن قائم کرنے کاالزام ہے جس سے قومی خزانے کوبھاری نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈنے ڈاکٹر ظفر اقبال سابق وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی اور دیگر کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لاہو ر میں وفاقی اردو یونیورسٹی کاغیر قانونی ذیلی کیمپس کھولنے اور مبینہ بدعنوانی کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔

جس سے قومی خزانے کو16.5ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے مینیجنگ ڈائریکٹر یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن ،وزات صنعت و پیداوار کے افسران/ اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال ، بدعنوانی اور این ایف سی کے مختلف اکائونٹس سے رقوم نکال کر پرائیویٹ بینکوں میں منتقل کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 3 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق ایم این اے راحیلہ کوثر اور دیگر کے خلاف عدم ثبوت کی بنیاد پر انویسٹی گیشن بند کر نے کی منظوری دی،جبکہ شکایت کنندہ کے خلاف غلط شکایت کرنے پر نیب آرڈیننس کے تحت 18ایچ کے تحت انکوائری کا حکم دیا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق چیئرمین ریلوے عارف عظیم اوردیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پرریلوے کیلئے 58لوکوموٹو اور40پاورز وین من پسند کمپنی کے ذریعے خریدنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 19900 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

ایگزیکٹو بورڈ نے گلاب خان سیکرٹری کراچی پورٹ ٹرسٹ آفیسرز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی اور دیگر کے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر کمرشل پلاٹس کی الاٹمنٹ کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے نیشنل بینک آف پاکستان کی بحرین برانچ کے افسران/اہلکاران اور دیگر کے خلاف عدم ثبوت کی بنیاد پر انکوائری بند کرنے کی منظوری دی۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے پاکستان پیٹرولیم لیمیٹڈ کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر ڈائریکٹرز کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پرفنڈز میں خوردبرد کا الزام ہے۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق کسب بینک کے چئیرمین کے مشیر ناصر علی شاہ بخاری اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر کسب بینک سے غیرقانونی طور پر 3.114 ارب روپے نکلوانے کا الزام ہے۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے پاکستان سٹیل ملز کے افسران/اہلکاران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پراختیارا کا ناجائز استعمال کرتے ہوے کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو غیر قانونی طور پر مستقل کرنے کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو تقریبا 6.69 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق وزیر افرادی قوت حکومت خیبر پختونخوا شیر اعظم خان اور دیگر کے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔

ملزمان پرمبینہ طور پراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اراضی کی خریداری میں قواعد کی خلاف ورزی اور دھوکہ دہی کا الزام ہے ۔ جس سے قومی خزانے کو10کروڑ75 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے سابق ایم ڈی پیپکو منور بصیر احمداور دیگر کے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر بدعنوانی کاالزام ہے۔

جس سے قومی خزانے کومبینہ طور پر ایک ارب 38 کروڑ19لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے پاک پی ڈبلیو ڈی خیبر پختون خواہ کے افسران / اہلکاران اور دیگر کے خلاف نکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دینے اورجعلی سکیموں کے ذریعے خورد برد کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 2 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

ایگزیکٹو بورڈ نے بنک آف خیبر پشاورکے افسران / اہلکاران اور دیگر کے خلاف نکوائری کی منظوری دی۔ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوے 1400افراد کوغیر قانونی بھرتی اور پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پاسکو کو بھاری قرضے دینے کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان محمد قاسم بلوچ اوردیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔

ملزمان پرمبینہ طور پرجعلی اور غیرقانونی طریقہ سے گاڑیوں کی رجسٹریشن کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو تقریبا ڈیڑھ کروڑروپے نقصان پہنچا۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے، نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو نہ صرف اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں بلکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کرپشن فری پاکستان کیلئے بھرپور کاوشیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شواہد کی بنیا د پر 10 ماہ کے اندر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب ’’’ احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی پاکستان اور پاکستان کی عوام سے ہے۔ نیب افسران اپنے فرائض پوری ایمانداری، دیانت، میرٹ، شفافیت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرانجام دیں۔