پاکستانی مصنوعات کی دنیا بھر کی مارکیٹ میں اضافہ ہو رہاہے، نیشنل ٹیرف پالیسی کا مسودہ بنا لیا گیا ہے ،

پاکستان ایکسپورٹ کارپوریشن کو بند کرنے کی تجاویز زیر غور ہے، کراچی لاہور ، پشاور ، کوئٹہ میں پاکستان ایکسپو سنٹر بنانے کے لئے عمل درآمد کر رہے ہیں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجا رت و ٹیکسٹائل میں سیکرٹری تجارت یونس ڈھاگہ کی کو بریفنگ

بدھ مئی 21:01

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجا رت و ٹیکسٹائل کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری تجارت یونس ڈھاگہ نے بتایا کہ پاکستانی مصنوعات کی دنیا بھر کی مارکیٹ میں اضافہ ہو رہاہے، نیشنل ٹیرف پالیسی کا مسودہ بنا لیا گیا ہے ۔ پاکستان ایکسپورٹ کارپوریشن کو بند کرنے کی تجاویز زیر غور ہے۔ کراچی لاہور ، پشاور ، کوئٹہ میں پاکستان ایکسپو سنٹر بنانے کے لئے عمل درآمد کر رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجا رت و ٹیکسٹائل کا اجلاس چیئرمین سینیٹر شبلی فراز کی زیر صدار ت پارلیمنٹ ہاس میںمنعقد ہوا ، اجلاس میں سینیٹر نزہت صادق ، نعمان وزیر خٹک اوراحمد خان کے علا وہ وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک ، سیکرٹری تجا رت یونس ڈھاگہ ، سیکرٹری ٹیکسٹائل ڈویژن حسن اقبال و دیگر نے شرکت کی ، اجلاس میں سیکرٹری تجارت کی جانب سے بتایا گیا کہ وزیر اعظم کے بر آمدی پیکج کے باعث برآمدات میں کا فی حد تک اضافہ ہوا ہے ، انہوںنے بتایا کہ ہم نے نیشنل ٹیرف پالیسی کا مسو دہ بنالیا ہے ، اس موقع پر سیکرٹری تجا رت یونس ڈھاگہ کی جانب سے کمیٹی کو کامرس ڈویژن کے ماتحت اداروں اور ان کے امور کے سلسلے میں بھی بریفنگ دی گئی ، سیکرٹری تجارت نے بتایاکہ کا روبارکے سلسلے میں معاملات کو نمٹانے کے لی آلٹر نیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیشن ایک نیا ادارہ بنا رہے ہیں، سیکرٹری تجا رت یونس ڈھاگہ نے کہاکہ تجارت کے سلسلے میں جو ایف ٹی اے طے پارہے ہیں اس میں ان مسائل کو حل کرنے کے رولز بھی ہیں ، اس موقع پر سیکرٹری ٹیکسٹائل نے ٹیکسٹائل ڈویژن سے متعلق بریفنگ دی جبکہ اجلاس میں چیئرمین شبلی فراز کی جانب سے این آئی سی ایل کے ملا زمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے اور این آئی سی ایل بورڈ کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا گیا جس پر وزیر تجا رت پر ویز ملک نے کہا کہ این آئی سی ایل کا نیا بورڈ تشکیل دیا جا رہاہے جس کی سمری وزیراعظم کو بھیج دی ہے وزیر تجار ت نے چیئرمین کمیٹی کو این آئی سی ایل ملا زمین کی تنخواہوں کا معاملہ حل کرنے کی یقین دھانی کر ائی ۔