اپوزیشن جماعتوں کاقومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی سے واک آئوٹ

جمعرات مئی 18:37

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) اپوزیشن جماعتوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی سے واک آئوٹ کیا۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اپوزیشن پورے سال کا بجٹ پیش کئے جانے کے عمل کے خلاف ہے اور اسے غیر قانونی تصور کرتی ہے اس لئے ہم نے اپنی کٹوتی کی تحاریک بھی احتجاجاً واپس لے لی ہیں کیونکہ ہم مطالبات زر کی منظوری کے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے اور اس دوران ہم اجلاس سے واک آئوٹ کریں گے اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی‘ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے ارکان ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔

قبل ازیں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اجلاس ساڑھے دس بجے کی بجائے تاخیر سے شروع ہوا۔ ایک دفعہ کورم کی نشاندہی ہوجائے تو قواعد کے تحت آدھے گھنٹے بعد ایوان میں آکر گنتی کرانا پڑتی ہے مگر آج اس حوالے سے قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے، روزہ داروں کی دل آزاری ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ سمجھا جائے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی اجلاس تاخیر سے شروع کرنے پر شدید اعتراض کیا جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طویل ہونے کی وجہ سے اجلاس تاخیر سے شروع ہوا جس پر ہم معذرت چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رکن شیخ صلاح الدین نے کہا کہ 31 مئی تک اجلاس چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیراعظم کی طرف سے ایوان کو ایجنڈے کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے جس پر سپیکر نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور سے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی اجلاس مزید چلانے کی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ (آج) جمعہ کو اس کا حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔ اعجاز جاکھرانی نے کہا ہے کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں جو فیصلہ ہوتا ہے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔