وتھل: ڈسٹرکٹ آواران کے علاقے ٹڑانچ میں گیسٹرو کی وباء پھیل گئی

تین افراد جاں بحق 80سے زائد متاثر ایدھی فائونڈیشن کی جانب سے متاثرہ علاقے میں امدادی کیمپ قائم 19مریضوں کو لسبیلہ منتقل کردیا گیا

جمعہ مئی 18:37

اوتھل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) ڈسٹرکٹ آواران کے علاقے ٹڑانچ میں گیسٹرو کی وباء پھیل گئی تین افراد جاں بحق 80سے زائد متاثر ایدھی فائونڈیشن کی جانب سے متاثرہ علاقے میں امدادی کیمپ قائم 19مریضوں کو لسبیلہ منتقل کردیا گیا 40مریضوں کو ایدھی کیمپ میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جارہی ہے مضر صحت پانی پینے سے وباء دن بدن بڑھتی جارہی ہے طبی ماہرین ،پہاڑی علاقہ اور راستے نہ ہونے کی وجہ اور مواصلاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو شدید دشواریوں کا سامنا ڈی سی لسبیلہ کی ہدایت پر ڈاکٹرز کی ایک ٹیم ٹڑانچ پہنچ گئی وباء کو قابو میں پینے کیلئے عملی طور پر اقدامات اٹھارہے ہیں صوبائی حکومت بلوچستان تفصیلات کیمطابق ضلع لسبیلہ کے قریب واقع ڈسٹرکٹ آواران کے دور افتادہ علاقہ ٹڑانچ میں مضر صحت پانی پینے سے تین افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ 80سے زائد افراد متاثر ہیں اور ان میں 19افراد کو لسبیلہ کے ہسپتال جام غلام قادر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ 40مریضوں کو ایدھی کیمپ میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اطلاع ملتے ہی ایدھی فائونڈیشن کے سعد ایدھی ،،ایدھی بلوچستان کے انچارج ڈاکٹر عبدالحکیم لاسی اپنی ٹیم کے متاثرہ علاقہ پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے وہاں پر طبی کیمپ قائم کرکے مریضوں کا علاج و معالجہ شروع کردیا ہے جبکہ تشویش ناک حالت میں مریضوں کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے لسبیلہ و کراچی منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جبکہ ڈی سی لسبیلہ شبیر احمد مینگل کی خصوصی ہدایت پر بھی ڈاکٹرز کی ٹیم کو متاثرہ علاقہ روانہ کردیا گیا ہے اور وہ ٹیم بھی متاثرہ علاقہ پہنچ گئی ہے اور مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کررہے ہیں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گیسٹر مضر صحت پانی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ ایک خطرناک اور جان لیوا مرض ہے جس کو فوری طور پر قابو پانا ہوگا نہیں تو یہ آہستہ آہستہ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ایدھی فائونڈیشن کے رہنما سعد ایدھی ،،ایدھی بلوچستان کے انچارج ڈاکٹر عبدالحکیم لاسی ،ڈی سی لسبیلہ شبیر احمد مینگل نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقہ پہاڑوں میں واقع ہے اور راستہ بھی نہیں ہے گاڑیوں کیلئے جبکہ مواصلاتی نظام بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دشواری کا سامنا ہورہا ہے لیکن پھر بھی ہماری ٹیمیں متاثرہ علاقہ پہنچ چکی ہیں اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جو زیادہ متاثر ہیں انہیں وہاں سے لسبیلہ منتقل کیا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت بلوچستان بھی وباء کو قابو میں پانے کیلئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے اور جلد اس جان لیوا مرض کو قابو میں پایا جائے گا جبکہ ایک متاثرہ نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں ایک ندی ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں اور جانور بھی اسی ندی سے پیتے ہیں اور یہ مضر صحت پانی پینے کی وجہ سے یہ بیماری پھیل چکی ہے اور ہم وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری امداد کی جائے ۔