نقیب اللہ قتل کیس، عدالت کا پیش کردہ سی ڈی کی کاپیاں پیش کرنے کا حکم ،سماعت 28 مئی تک ملتوی

نقیب اللہ قتل کیس کے سرکاری وکیل کو سنگین دھمکیاں ملنے کا انکشاف، عدالت میں پیش نہ ہو سکے، سرکاری وکلا نے عدالتی نوٹس وصول کرنے سے معذرت کرلی حیرت ہے سرکاری وکلا نوٹس بھی وصول نہیں کررہے، میں نے پہلے ہی ہائی کورٹ کو لکھا تھا کہ کیس بھیج رہے ہیں توعملہ اور سرکاری وکیل بھی بھیجیں،فاضل جج کے ریمارکس

ہفتہ مئی 15:44

نقیب اللہ قتل کیس، عدالت کا پیش کردہ سی ڈی کی کاپیاں پیش کرنے کا حکم ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) نقیب اللہ قتل کیس کے وکیل استغاثہ سنگین دھمکیوں کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہو سکے جب کہ سرکاری وکلا نے عدالتی نوٹس وصول کرنے سے معذرت کرلی،فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ حیرت ہے سرکاری وکلا نوٹس بھی وصول نہیں کررہے، میں نے پہلے ہی ہائی کورٹ کو لکھا تھا کہ کیس بھیج رہے ہیں توعملہ اور سرکاری وکیل بھی بھیجیں، عدالت نے پیش کردہ سی ڈی کی کاپیاں پیش کرنے کا حکم د یتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 28 مئی تک ملتوی کر دی ۔

ہفتہ کو کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی، جیل حکام نے سابق ایس ایس پی ملیر را ئو انوار سمیت دیگر ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش کردیا۔ مقدمے کی سماعت بند کمرے میں ہوئی۔ تفتیشی افسرنے سی سی ٹی وی فوٹیج پر مشتمل سی ڈی اور دیگر شواہد عدالت کے روبرو پیش کردیئے تاہم مقدمے کے وکیل استغاثہ علی رضا ایڈووکیٹ پیش نہ ہوئے ان کی جگہ دیگر سرکاری وکلا پیش ہوئے۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران صورت حال اس وقت پیچیدہ ہوگئی جب کہ سرکاری وکلا نے عدالتی نوٹس وصول کرنے سے انکار کردیا، جس پر فاضل جج نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حیرت ہے سرکاری وکلا نوٹس بھی وصول نہیں کررہے، میں نے پہلے ہی ہائی کورٹ کو لکھا تھا کہ کیس بھیج رہے ہیں توعملہ اور سرکاری وکیل بھی بھیجیں۔ عدالت نے پیش کردہ سی ڈی کی کاپیاں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ کیس کی مزید سماعت 28 مئی کو ہوگی۔مقدمے کے وکیل استغاثہ علی رضا عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان کی عدم موجودگی کے باعث دیگر سرکاری وکلا پیش ہوئے۔ سرکاری وکلا نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ علی رضا کا کہنا ہے کہ وہ را انوار کے مقدمیمیں پیش نہیں ہوسکتا، اسے دھمکیاں مل رہی ہیں۔