صوبے کی سب سے بڑی تنظیم کے ساتھ مزدوروں کے مسائل پر بات چیت کا اہتمام کریں،پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان(رجسٹرڈ) کا وزیراعلی سے مطالبہ

ہفتہ مئی 18:50

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان(رجسٹرڈ) کے رہنمائوں محمد رمضان اچکزئی ،خان زمان، بشیر احمد، عبدالمعروف آزاد، حاجی عزیز اللہ ،محمد رفیق لہڑی، محمد قاسم کاکڑ، محمد یوسف، عابد بٹ اور دیگر نے ایک مشترکہ ا بیان کے ذریعے وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور چیف سیکریٹری بلوچستان اورنگزیب حق سے ایک بار پھر پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبے کی سب سے بڑی تنظیم کے ساتھ مزدوروں کے مسائل پر بات چیت کا اہتمام کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت محکمہ محنت بد انتظامی، نااہلیت اور کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں غیر قانونی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ پروجیکٹس کے ٹینڈرز، بھرتیوں کیلئے ٹیسٹنگ ایجنسی کا انتخاب، وردیوںکے ٹینڈرز اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں قانون اور رولز کو پامال کرتے ہوئے کمیٹیوں میںصوبے کے ایمپلائر اور ورکر زنمائندے کی قانو نی موجودگی کے باوجود ان کی رائے اور تجاویز کے بغیر فیصلے کئے گئے ہیں جو کہ غیر قانونی اور قواعد و ضوابط کے برخلاف ہیں۔

(جاری ہے)

محکمہ محنت میں نااہلیت کی سب سے بڑی وجہ سیاسی بنیادوں پر یکے بعد دیگرے تین گریڈ 20-کے سیکریٹریوں کو تبدیل کرکے گریڈ19- کے آفیسر کو اس بنیاد پر تعیناتی دی گئی ہے کہ وہ مزدوروں کے حقوق کو پامال کرکے محکمہ محنت کے وزیر کی فرمائشیں پوری کرتا رہیں ۔ اسی بنیاد پر محکمے کے گریڈ 19- کے سیکریٹری نے آتے ہی گریڈ 20-کے سیکریٹری کی طرف سے کینسل کئے گئے ٹینڈرز کو بحال کرکے غیر قانونی فیصلے کرناشروع کر دیئے ہیں۔

کنفیڈریشن کے رہنمائوں نے کہا کہ صوبے میں اکثر عہدوں پر جونیئر آفیسران تعینات ہیں جس کی وجہ سے صوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن سے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔ کنفیڈریشن کے رہنمائوں نے محکمہ ایری گیشن میں پروموشن، اپ گریڈ ایشن اور تعیناتیوں میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مشینری کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون اور قاعدے کے برخلاف ہونے والے فیصلوں کی روک تھام کرکے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرے ۔

اس وقت صوبے بھر میں رجسٹرڈ ورکر زکی فہرست محکمہ محنت اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے پاس موجود نہیں ہے۔ سیاسی طور پر ایسے علاقوں میں سکول، ہسپتال اور کالونیاں بنائی جارہی ہے جہاں ایک رجسٹرڈ ورکرز بھی نہیں ہے اور یہ تمام سیاسی آقائوں کی ایماء پر انھیں خوش کرنے اور محکمے کے آفیسران کی کرپشن میں حصہ داری کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔تمام محنت کش اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کنگری میں فلیٹس اور دیگر تعمیرات کی گئی ہے لیکن وہاں ایک ورکر بھی رجسٹرڈ نہیں ہے اور اسی طرح ژوب میں سکول کرائے پر لئے جارہے ہیں اور ٹیچر بھرتی کئے جارہے ہیں جبکہ ژوب میں ایک بھی رجسٹرڈ ورکر موجود نہیں ہے۔

یہی صورتحال سبی، نصیر آباد اور صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی موجود ہیں۔ کنفیڈریشن کے رہنمائوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ گڈانی کے 32 شہید کارکنوں ، ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے مزدوروں، کوئلے کے کانوں میں سینکڑوں شہید ہونے والے کارکنوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنا کر ان کے لواحقین کو ڈیتھ گرانٹ کی ادائیگی کرنے اور ان کے بچوں کی تعلیم اور نان نفقہ کیلئے ہر ماہ ماہانہ الائونس دینے کا مطالبہ کیا۔

کنفیڈریشن کے رہنمائوں نے کہا کہ محکمہ محنت نے چند ڈمی ٹریڈ یونین ڈیلروں کو ساتھ رکھ کر بیانات کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس میں انھیں منہ کی کھانی پڑے گی کیونکہ مزدوروں کے جائز حقوق ملنے سے محکمہ محنت پر اعتماد بڑھ سکتا ہے ۔ انہوں نے محکمہ محنت میں ایماندار، اہل گریڈ 20-کے آفیسر کی تعیناتی کرنے ، ایری گیشن کے محکمے میں تمام بھرتیوں ، قائم مقام پروموشنز اور دیگر بے قاعدگیوں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔