رہائشی پلاٹوں پر تجارتی سرگرمیاں خصوصاً کمرشل ادارے ، ہوٹلز، اسکولز، ٹیوشن سینٹراور بیوٹی پارلر چلانا الاٹمنٹ کی بنیادی شرائط کی خلاف ورزی ہے،سمیع الدین صدیقی

اتوار مئی 19:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات کراچی سمیع الدین صدیقی نے کہاہے کہ رہائشی پلاٹوں پر تجارتی سرگرمیاں خصوصاً کمرشل ادارے ، ہوٹلز، اسکولز، ٹیوشن سینٹراور بیوٹی پارلر چلانا الاٹمنٹ کی بنیادی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔کے ڈی اے جلد ہی اس سلسلے میں لائحہ عمل تیار کرکے ایسے تمام پلاٹوں کے مالکان سے جرمانہ وصول کریگا۔

اس طرح جمع ہونے والی رقم مختلف اسکیموں میں ضروری ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار ڈی جی کے ڈی اے نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر فعال انجینئرز، افسران و دیگر عملہ کو کے ڈی اے میں بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈی جی کے ڈی اے سمیع الدین صدیقی نے کہا کہ کے ڈی اے میں محنتی اور تجربہ کار عملہ موجود ہے اور ادارہ کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے کراچی میں شروع کئے گئے میگا پروجیکٹس میں کام کرنے والا اکثر یتی عملہ کے ڈی اے سے تعلق رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ کراچی کے میگا پروجیکٹس کے تحت کچھ اسکیمیں مکمل طور پر کے ڈی اے کے حوالے کی جائیں اور موجودہ پروجیکٹس پر کام کرنے والے عملہ کے سروس چارجز کی وصولی کو بھی یقینی بنایا جائے۔کے ڈی اے کے زیر کنٹرول تمام اہم شاہراہیں جن میں نارتھ کراچی،، سرجانی ٹائون، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال اور دیگر روڈز، پارکس ،نرسریز اور ان کے سائٹ آفیسز ، کے ڈی اے فلیٹس نارتھ ناظم آباد اور کے ڈی اے اسکیم ون کی تمام تر تفصیلات فراہم کرنے کے ساتھ لائنز ایریا پارکنگ پلازہ، سہراب گوٹھ ورکشاپ، سوک سینٹر کورنگی کی اسکیموں میں خالی فلیٹس کی بھی رپورٹ پیش کی جائے۔

انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام اثاثہ جات کی تفصیلی رپورٹس فوری طور پر جمع کرائیں تاکہ آئندہ اجلاس میں اثاثوں کا تعین کرنے والی کمیٹی کو آگاہ کیا جاسکے۔اجلاس میں سیکرٹری کے ڈی اے فضیل بخاری ، چیف انجینئر رام چند، ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکائونٹس شمس صدیقی، ڈائریکٹر لینڈ سید ارشد عباس ، ڈائریکٹر ریکوری عطا عباس، چیف سیکورٹی آفیسر رائو محمد طارق، میڈیا کوآرڈی نیٹر فرمان شاہ اور دیگر افسران موجود تھے۔ #