وینزویلا میں نکولاس مادورو دوبارہ ملک کے صدامنتخب،الیکشن کمیشن کا اعلان

عالمی مبصرین نے انتخابی نتائج کو متنازع قرار دے کر مسترد کردیا،اپوزیشن کابھی دھاندلی کا الزام،دوبارہ انتخابات کامطالبہ

پیر مئی 14:55

کراکس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو نے دوبارہ صدارتی الیکشن میں فتح حاصل کرلی۔ادھر عالمی مبصرین نے انتخابی نتائج کو متنازع قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ اپوزیشن نے بھی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا اور دوبارہ انتخاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہاکہ نکولاس مادورو 67.7 فیصد ووٹ حاصل کرکے 6 سال کے لیے وینز ویلا کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

مادورو کے حریف ہنری فالکن نے 21.2 فیصد ووٹ لیے۔ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی شرح 46.1 فیصد رہی۔ نکولاس مادورو کو 58 لاکھ جب کہ ہنری فالکن کو 18 لاکھ ووٹ ملے۔عالمی مبصرین نے انتخابی نتائج کو متنازع قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ اپوزیشن نے بھی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا اور دوبارہ انتخاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

اپوزیشن اتحاد دی ڈیموکریٹک یونیٹی راؤنڈ ٹیبل نے احتجاج کرتے ہوئے ووٹرز سے انتخابات میں بائیکاٹ کی اپیل کی۔

ادھر الیکشن میں فتح کے بعد حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نکولاس مادورو نے کہا کہ ا?ج تاریخی اور حسین فتح کا دن ہے، مخالفین نے مجھے کمتر سمجھا تھا، جبکہ اس سے پہلے کوئی امیدوار الیکشن میں 68 فیصد ووٹ حاصل نہیں کرسکا۔واضح رہے کہ نکولاس مادورو نے ملک کے مقبول ترین رہنما ہوگو شاویز کے انتقال کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ شروع میں تو حالات ٹھیک رہے تاہم پھر تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کے باعث وینزویلا میں مہنگائی کا طوفان ا?گیا۔ وینز ویلا کی معیشت کا مکمل دارو مدار تیل کی برا?مد پر ہے جس کے باعث مہنگائی و بے روزگاری بڑھنے پر حکومت کے خلاف شدید احتجاج شروع ہوگیا جس میں بہت لوگ ہلاک و زخمی ہوگئے۔