قلندرآباد، عارضی بندھ میں ڈوبنے والے نوجوان کی نعش 10 گھنٹے بعد نکال لی گئی

بدھ مئی 11:50

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2018ء) قلندرآباد کی نواحی بستی ہل میرا کے مقام پر ندی نالے پر بنے عارضی بندھ میں ڈوبنے والے نوجوان کی نعش 10 گھنٹے بعد نکال لی گئی، مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا، فیاض ولد خان محمد نامی 15 سالہ نوجوان گذشتہ روز صبح 10 بجے کے قریب گھر کے قریب بنے عارضی بندھ میں نہانے کیلئے اترا تاہم مٹی اور کیچڑ کی وجہ سے واپس نہیں نکل سکا، شام گئے گھر والوں کی جانب سے تلاش پر انہیں لڑکے کے کپڑے اور چپل بندھ کے کنارے ملے، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں مقامی لوگ جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔

اس دوران سی پیک پر کام کرنے والی چائنہ انجینئرز مشینری سمیت موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا تاہم ناکافی سہولتوں اور بندھ میں گہرے کیچڑ کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

(جاری ہے)

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی تھانہ کے اہلکار سمیت قائم مقام ڈی پی او سونیا شمروز بھی موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔

تاہم مقامی سطح پر افرادی قوت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پشاور سے تیراک ٹیم منگوانے کا اعلان کیا گیا تاہم اس سے قبل تقریباً 10 گھنٹے کی تگ و دو کے بعد مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نعش کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ واضح رہے کہ 15 سالہ نوجوان فیاض کا والد 2015ء میں انتقال کر چکا ہے اور وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے جبکہ نوجوان کی حادثاتی موت کے باعث علاقہ کی فضا سوگوار ہو گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی کاموں کے دوران بعض مقامات پر ندی نالوں اور آبی گذرگاہوں کو بند کر دیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں کئی مقامات پر بارش کے پانی کے ذخائر بن چکے ہیں جو انسانی جانوں بالخصوص بچوں کیلئے انتہائی خطرناک ہیں اور اس سے قبل بھی کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں تاہم مقامی آبادی کی جانب سے کئی بار اس معاملہ پر احتجاج کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے اس بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا جبکہ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں وصول کرنے والے 1122 کے عملہ کی عدم موجودگی پر شہریوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا جو 10 گھنٹے سے زائد وقت گذرنے کے باوجود موقع پر نہیں پہنچ سکے۔