ْسانحہ ماڈل ٹاون استغاثہ میں نواز شریف سمیت بارہ حکومتی عہدیداروں کو طلب کرنے کی درخواست

لاہور ہائی کورٹ نے ادارہ منہاج القرآن کے گرد قائم تجاوزات کی شکائت کے اندراج اور وہاں بھیجے گئے پولیس اہلکاروں کی نفری کا ریکارڈ طلب کر لیا

بدھ مئی 19:44

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون استغاثہ میں نواز شریف سمیت بارہ حکومتی عہدیداروں کو طلب کرنے کی درخواست پر ادارہ منہاج القرآن کے گرد قائم تجاوزات کی شکائت کے اندراج اور وہاں بھیجے گئے پولیس اہلکاروں کی نفری کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

(جاری ہے)

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس قاسم علی خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹائون سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی،عوامی تحریک نیانسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے نواز شریف شہباز شریف سمیت بارہ حکومتی شخصیات کو استغاثہ میں طلب نہ کرنے کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلنج کر رکھا ہے،عدالتی حکم پر پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور شہادتیں ریکارڈ کی جا رہی ہے،،عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کے وکیل سے استفسار کیا کہ سیاست دانوں کے خلاف ایسا کیا مواد تھا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نظر انداز کر کے ان کو طلب نہیں کیا،ادارہ منہاج القرآن کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے آگاہ کیا کہ سانحہ ماڈل ایک سازش تھی جس کو استغاثہ کی کاروائی مکمل ہونے تک بے نقاب نہیں کیا جا سکتا، جس پر عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کے گرد قائم تجاوزات کی شکائت کے اندراج اور وہاں بھیجے گئے پولیس اہلکاروں کی نفری کا ریکارڈ طلب کر لیا، عدالت نے عوامی تحریک کے وکلا کو مقتولین اور زخمیوں کی فہرست جمع کروانے کی ہدایت کی ہے،عدالتی حکم پرسابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا بھی موجود تھے، عدالت نے سماعت 24مئی تک ملتوی کردی۔