امن و امان کے قیام سے معیشت کے ہر شعبہ میں بہتری آرہی ہے ۔ گورنرسندھ

بدھ مئی 23:44

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) گورنرسندھ محمد زبیر نے کہا کہ امن و امان میں نمایاں بہتری کے بعد معیشت کے ہر شعبہ میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری دیکھنے میں آرہی ہے اور خصوصاً ملک کا معاشی مرکزکراچی سرمایہ کاروں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے۔ جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کارگل گروپ کے تین رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا ۔

جس کی سربراہی منیجنگ ڈائریکٹر ٹونی کیٹنگر کررہے تھے ۔ وفد کے دیگر اراکین میں کارگل کے کنٹری ہیڈ عمران نصراللہ اور کمرشل منیجر انس ہارون بھی شامل تھے ۔ گورنرسندھ نے کہا کہ سرمایہ کاری امن و امان کی بہترصورتحال سے منسلک ہوتی ہے جس قدر حالات بہتر ہونگے اتنی ہی سرمایہ کاری بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پانچ برس قبل امن و امان اور توانائی بحران ملک کے لئے بڑے چیلنجز تھے ، موجودہ حکومت نے سیاسی سوچ اور عزم کے ساتھ آپریشن کا فیصلہ کیا جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھرپور طریقہ سے عملدرآمد کیا اور اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کا سب سے زیادہ کریڈٹ وفاقی حکومت کو جاتا ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے خصوصی قانون کے ذریعہ رینجرز کو مطلوبہ اختیارات دینے کے ساتھ ساتھ گذشتہ پانچ برس کے دوران وفاقی حکومت نے آپریشن میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جریدے 2013 ء میں کراچی کو دنیا کا خطرناک کے ترین شہر وں میں شمار کررہے تھے اور پانچ برس بعد صورتحال اس قدر بہتر ہوچکی ہے کہ ہر روز کوئی نہ کوئی بین الاقوامی کانفرنس ، ورکشاپ یا سیمینار کسی نہ کسی جگہ منعقد ہو رہی ہے جبکہ 2013 ء میں کوئی غیر ملکی دن کے دورے پر بھی کراچی آنے کو تیار نہیں تھا ۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک حقیقی معنوں میں گیم چینجر ہے خصوصاً توانائی کے شعبہ میں 34ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری سے اس شعبہ میں بے مثال ترقی ہوگی ۔ا نہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں میں اب تک 20 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کسی کے ملک کے خلاف نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام معاشی اشاریہ حکومت کی کامیاب معاشی پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ادائیگیوں کے توازن کا تذکرہ کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ درآمدا ت کے باعث اس میں مسائل پیدا ہوئے ہیں درآمدی بل سی پیک کے مختلف منصوبوں کے لئے آلا ت و مشینری منگوانے کے باعث بڑھا ہے ۔ انہوں نے گذشتہ 20 برس کے دوران ایگری فوڈ کے شعبہ میں نمایاں خدمات انجام دینے پر کارگل گروپ کو سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ۔

ٹونی کیٹنگر نے معیشت کے مختلف پہلوئوں پر تفصیل سے روشنی ڈالنے پر گورنرسندھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کارگل کمپنی عالمی سطح پر نجی شعبہ کی تین بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کا ٹرن اوور 100 ارب امریکی ڈالرز کے قریب ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارگل گروپ پاکستان میں پام آئل ، پولٹری اور دیگر جانوروں کی خوراک کے کاروبار سے گذشتہ20برس سے منسلک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی پاکستان کے سائز کی مارکیٹ کو نظر انداز نہیں کرسکتی ۔ ا نہوں نے مزید بتایا کہ ان کا گروپ پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کرنے کے لئے سنجیدگی سے غور کررہا ہے ۔