قومی اسمبلی نے اکیسویں ترمیم کی صورت میں فاٹا ریفارمز بل2018ء کی منظو ری دے دی گئی

بل کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے باوجود ایوان میں نمبر پورے کرنے کے لئے مشکلات کا سامنا مطلوبہ تعداد سے صرف1زائد نمبر کے ساتھ فاٹا ریفارم بل کی منظوری حاصل کی گئی

جمعرات مئی 21:36

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے اکیسویں ترمیم کی صورت میں فاٹا ریفارمز بل2018ء کی منظور یدے دی گئی۔ فاٹا ریفارمز بل کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے باوجود ایوان میں نمبر پورے کرنے کے لئے مشکلات کا سامنا ۔ مطلوبہ تعداد سے صرف1زائد نمبر کے ساتھ فاٹا ریفارم بل کی منظوری حاصل کی گئی۔ جمعرات کو قوی اسمبلی کے جاری اجلاس میں اراکین کی مطلوبہ تعداد پوری نہ کرنے کے سبب 3گھنٹے سے زائد اراکین کی حاضری کا انتظار کیا گیا۔

اپوزیشن لیڈر او ردیگر پارلیمانی لیڈر اس موقع پر سپیکر اسمبلی کو جلد ووٹنگ کرانے کا کہتے رہے۔ ایم کیو ایم ایک موقع پر ضدی بچے کی طرح روٹھ کر ایوان سے باہر جا بیٹھی۔ جسے مناننے کے لئے پاکسستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے اہم کردار ادا کیا اور انہیں ایوان میں واپس راضی کر کے لائے۔

(جاری ہے)

سپیکر قومی اسمبلی نے بل کی منظوری کے لئے اراکین کو اپنی سیٹوں پر کھڑے ہونے کا کہا ۔

گنتی پر ایوان میں بل کے حق میں کھڑے اراکین کی تعداد 229رہی۔ جبکہ بل کی منظوری کے لئے مطلوبہ تعداد 228تھی۔ جبکہ اس موقع پر مخالفت میں پڑنیو الے ووٹس کی تعداد7رہی۔ اس کے بعد سپیکر نے کلاز وائز تمام شعبوں کی اراکین کی حاضری کے ذریعے منظوری لی ۔ اس موقع پر ایوان کا ماحول خوشگوار رہا اور بل کے مخالف اراکین ابتدائی چن مخالف ووٹ گنوانے کے بعد ایوان سے باہر جا کر بیٹھے۔۔