آج قومی اسمبلی میں تاریخی بل پاس کیا گیا اس کے نتائج پاکستان کیلئے بہت بہتر ہونگے ، شاہد خاقان عباسی

پوزیشن کا مشکور ہوں، جس نے بل کے پاس کرانے میں ہمارہ ساتھ دیا، یہ کوششیں 4سال سے جاری تھیں، اس پر کمیٹی بنائی گئی جس کی سربراہی سرتاج عزیز کر رہے تھے، اس کمیٹی کی سفارشات کے نتیجے میں بل بنا اور پاس ہوا ، وزیراعظم میں خاص طور پر خورشید شاہ، شاہ محمود قریشی، فاروق ستار اور دیگر ممبران کا مشکور ہوں جنہوں نے اچھے جذبے سے اس بل کی منظوری میں حکومت کا ساتھ دیا، مجھے افسوس ہے عمران خان نے ا گر ان تقریر میں وہ موضوع چنا جو آج نہیں ہونا چاہئے تھا، یہ سب باتیں عوام جانتی ہیں، کسی کو منی لانڈرکہنا اخلاق کے تقاضوں کے منافی ہیں،آج کے دن یہ باتیں مناسب نہیں تھیں،میں یہ کہتا ہوں کہ پاکستان کی عوام ان باتوں کا فیصلہ جولائی کے الیکشن میں کریں گے، قومی اسمبلی میں اظہار خیال

جمعرات مئی 21:45

آج قومی اسمبلی میں تاریخی بل پاس کیا گیا اس کے نتائج پاکستان کیلئے بہت ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج قومی اسمبلی نے ایک و تاریخی بل پاس کیا ہے، اس کے نتائج پاکستان کیلئے بہت بہتر ہونگے، اپوزیشن کا مشکور ہوں، جس نے بل کے پاس کرانے میں ہمارہ ساتھ دیا، یہ کوششیں 4سال سے جاری تھیں، اس پر کمیٹی بنائی گئی جس کی سربراہی سرتاج عزیز کر رہے تھے، اس کمیٹی کی سفارشات کے نتیجے میں بل بنا اور آج یہ بل پاس ہوا، میں خاص طور پر خورشید شاہ،، شاہ محمود قریشی،، فاروق ستار اور دیگر ممبران کا مشکور ہوں جنہوں نے اچھے جذبے سے اس بل کی منظوری میں حکومت کا ساتھ دیا، مجھے افسوس ہے عمران خان نے ا گر ان تقریر میں وہ موضوع چنا جو آج نہیں ہونا چاہئے تھا، یہ سب باتیں عوام جانتی ہیں، کسی کو منی لانڈرکہنا اخلاق کے تقاضوں کے منافی ہیں،آج کے دن یہ باتیں مناسب نہیں تھیں،میں یہ کہتا ہوں کہ پاکستان کی عوام ان باتوں کا فیصلہ جولائی کے الیکشن میں کریں گے،اس بل کے حوالے سے خصوصی خیال رکھا گیا کہ اس بل کی وجہ سے انتخابات کی تاخیر اس بل کی آڑ میں نہ کی جاسکی،سب سے بڑھ کر اس بل میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں کتنی سیٹیں ہوں گی،،سینیٹ میں کتنی نمائندگی ہوگی،لوکل گورنمنٹ کا کیا طریقہ کار ہوگا،یہ ایک ابتداء ہے،ہم نے فاٹا کی عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ فاٹا کے ترقیاتی عمل کی جو کمی ہے اس کو پورا کیا جائے،ہماری رائے تھی کہ 10سال کیلئے فاٹا کی عوام کیلئی100 ارب روپے رکھے جائیں،اس کے ایوان کی مثبت رائے چاہئے،یہ بہت ضروری ہے اور یہ کمٹمنٹ اس ہاؤس سے ہمیں چاہئے تاکہ فاٹا کی عوام کو احساس ہو کہ وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں،آج ہاؤس نے مظاہرہ کیا ہے کہ اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے جو بھی نیشنل ایشوز ہیں جو پیچیدہ مسائل ہیں ان پر مشاورت ہونی چاہئے اور اتفاق رائے سے ان مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔

(جاری ہے)

آج کی سیاست میں گالم گلوچ اور بدتمیزی کی کوئی جگہ موجود نہیں،ہم نے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے تاکہ لوگ ووٹ کو عزت دیں،جس طرح ہم نے آج ایک قومی تشخص کا مظاہرہ کیا ہے ہمیں آئندہ بھی ایسا ہی مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ ہوگیا تھا کہ فاٹا کے علاقے اس بل کے بعد بھی5سال کیلئے کسی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔۔وزیراعظم نے کہا کہ اس دفعہ پانی کا مسئلہ زیادہ ہے،اس دفعہ سنوفال معمول سے 60فیصد کم ہوئی ہے،گزشتہ برس پانی کی فلو75ہزار کیوسک تھی جو اس سال12ہزار کیوسک ہے۔

اس وقت ٹوٹل.3 ملین ایکڑ پانی موجود ہے،اس وقت تربیلہ اور منگلہ میں90فیصد کم پانی موجود ہے،ہمیں امید ہے کہ جون کے آخری ہفتے میں حالات بہت ہو جائیں گے،اپوزیشن لیڈر نے جس مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے ،ارسا کے اندر چلنے والے تنازعے کا اس میں حکومت کا عمل دخل نہیں ہے،ارسا پانی کی تقسیم کا خود مختار ادارہ ہے،صوبائی حکومتیں ارسا کی تقسیم پر عدالتوں سے بھی رجوع کر سکتی ہیں اور کونسل آف کامن انٹرمنٹ میں بھی یہ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے،ابھی ہماری حکومت کے کچھ دن باقی ہیں،اپوزیشن فیصلہ کرے جس دن کا مجھے کہیں گے میں پی سی آئی کی میٹنگ بلا لوں گا،ارسا کو رپورٹ کرنے کے میکنرم کے حوالے سے میں کل تک اپوزیشن کو بتا دوں گا۔