پاکستان میں نفرت، گالم گلوچ اور بدتمیزی کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں ،افسوس قومی یکجہتی والے روز عمران خان نے تقریرمیں غیرضروری باتوں کا ذکر کیا،

سب جانتے ہیں دھرنا کیسے اور کیوں ہوا اس کاجواب الیکشن میں عوام دیں گے،فاٹا انضمام پر ایوان نے ثابت کیا کہ قومی اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے ،ہمیں باقی پیچیدہ معاملات میں بھی قومی مفاہمتی عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے،پاکستان الیکشن میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا، انضمام کے باوجود فاٹا اور پاٹا کو 5سال تک ٹیکس کی چھوٹ حاصل رہے گی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل منظور ہونے کے بعد اظہار خیال

جمعرات مئی 22:06

پاکستان میں نفرت، گالم گلوچ اور بدتمیزی کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں ،افسوس ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نفرت، گالم گلوچ اور بدتمیزی کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں ،افسوس قومی یکجہتی والے روز عمران خان نے تقریرمیں غیرضروری باتوں کا ذکر کیا، سب جانتے ہیں دھرنا کیسے اور کیوں ہوا اس کاجواب الیکشن میں عوام دیں گے،،فاٹا انضمام پر ایوان نے ثابت کیا کہ قومی اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے ،ہمیں باقی پیچیدہ معاملات میں بھی قومی مفاہمتی عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے،،پاکستان الیکشن میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا، انضمام کے باوجود فاٹا اور پاٹا کو 5سال تک ٹیکس کی چھوٹ حاصل رہے گی۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل منظور ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج قومی اسمبلی نے تاریخی بل پاس کیا ہے اس کے نتایج مثبت ہوں گے۔

(جاری ہے)

بل کی منظوری کیلئے حمایت کرنے پر اپوزیشن ارکان کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ہم فاٹا کے عوام کا اعتماد حاصل کریں گے،،فاٹا میں ترقیاتی کام شروع کروائے جائیں گے اور فاٹا کے عوام کو وہی سہولتیں ملیں گی جو باقی شہریوں کو حاصل ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقا ن نے کہا کہآج ایوان نے ثابت کیا کہ قومی اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے اسی طرح ہمیں باقی پیچیدہ معاملات میں بھی قومی مفاہمتی عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ آج ایوان میں قومی یکجہتی والے روز کوئی متنازع بات نہیں ہونی چاہیے تھی، افسوس !عمران خان نے تقریرمیں غیرضروری باتوں کا ذکر کیا۔ سب جانتے ہیں دھرناکیسے اور کیوں ہوا پاناما میں کیا ہوا،ایوان میں ایسا متنازع معاملہ نہیں لانا چاہیے تھا جس سے کسی کا استحقاق مجروح ہو اور جس سے نفرت کا پہلو سامنے آئے۔

کسی کومنی لانڈرر کہنا اس کی ضرورت نہیں تھی،یہ اخلاق سے گری باتیں ہیں، کسی کومنی لانڈررکہنا اخلاق کے منافی ہے۔مجھے یقین ہے کہ اس کا جواب جولائی الیکشن میں عوام دیں گے، وزیراعظم نے کہاکہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، اور مقررہ وقت پرالیکشن ہوں گے۔ حکومت 31مئی تک قائم رہے گی۔ جبکہ الیکشن 60روز میں کروائے جائیں گے،،پاکستان الیکشن میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہکسی کو بھی پاکستان میں نفرت، گالم گلوچ اور بدتمیزی کی سیاست کی اجازت نہیں ہے اور ملک میں نفرت، بدتمیزی اور اخلاق سے ہٹ کرباتیں کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ارکان کا رویہ ایسا ہو کہ لوگ سیاستدانوں اور ووٹ کو عزت دیں، ووٹ کو عزت دینا ہمارا نعرہ ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انضمام کے باوجود فاٹا اور پاٹا کو 5سال تک ٹیکس کی چھوٹ حاصل رہے گی۔