ْ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے 31 ویں دستور (ترمیمی) بل 2018ء کی کثرت رائے سے منظوری

71 ارکان نے بل کے حق ، 5 نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا

جمعہ مئی 14:16

ْ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے 31 ویں دستور (ترمیمی) بل 2018ء کی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) ایوان بالا نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے 31 ویں دستور (ترمیمی) بل 2018ء کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک نے دستور (ترمیمی) بل 2018ء کو قومی اسمبلی سے منظور کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عثمان خان کاکڑ اور ان کی جماعت کے دیگر ارکان نے اس تحریک کے خلاف ایوان سے واک آئوٹ کیا تاہم بعد ازاں وہ ایوان میں واپس آ گئے اور بل پر رائے شماری میں حصہ لیا۔

بل پر مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے اظہار خیال کیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے بل کی مخالفت کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے رہنمائوں نے بل کی حمایت میں تقاریر کیں۔

(جاری ہے)

بعد ازاں چیئرمین نے بل منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا۔ 71 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 5 نے مخالفت میں رائے دی جس کے بعد چیئرمین نے بل کی شق وار منظوری حاصل کی۔

اس کے بعد بل پر حتمی رائے شماری کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ چیئرمین نے سینیٹر سعدیہ عباسی کو علالت کے باعث سب سے پہلے دستخط کرنے کے لئے لابی میں جانے کی اجازت دی۔ ارکان نے باری باری رول آف ممبرز پر دستخط کئے جس کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اعلان کیا کہ 71 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 5 ارکان نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا ہے۔ اس طرح سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے بل کی منظوری دے دی ہے۔