4 جماعتی اتحاد کا شجاعت حسین کی زیرصدارت اجلاس

،تمام محب وطن قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا فیصلہ چاروں صوبوں میں سیاسی و عوامی رابطے بڑھائے جائیں گے، پرویزالٰہی، خرم نواز گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، ناصر عباس شیرازی اور دیگر رہنمائوں کی اجلاس میں شرکت 77ء اور 2013ء والا الیکشن ڈرامہ نہیں ہونا چاہئے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابی نتائج عوام کیلئے قابل قبول ہوں‘گفتگو

جمعہ مئی 21:37

4 جماعتی اتحاد کا شجاعت حسین کی زیرصدارت اجلاس
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی کی رہائش گاہ پر چار جماعتی اتحاد کے اجلاس میں آئندہ الیکشن پر غور و خوض کیا گیا جس میں پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا، مجلس وحدت المسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ناصر عباس شیرازی اور دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔

چودھری شجاعت حسین کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام محب وطن قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں چاروں صوبوں میں سیاسی رابطے بڑھائے جائیں گے اور رابطہ عوام مہم شروع کی جائے گی۔ چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی اور دیگر رہنمائوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بہر صورت غیرجانبدار ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کا انعقاد یقینی بنائے تاکہ اس کے نتائج عوام کیلئے قابل قبول ہوں کیونکہ شفاف الیکشن ہی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 1977ء اور 2013ء والا الیکشن ڈرامہ اب نہیں ہونا چاہئے اگر ایسا کیا گیا تو اس پر عوامی ردعمل تاریخ کاحصہ بن جائے گا کیونکہ ایسے الیکشن کے نتائج کو عوام قبول نہیں کریں گے۔ سانحہ ماڈل ٹائون پر پیش رفت کے حوالے سے خرم نواز گنڈاپور نے بریفنگ دی اور اجلاس نے اس سانحہ کے متاثرین کی دادرسی کے سلسلہ میں عدلیہ کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا۔