فاٹاانضمام بل کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کا راستہ روکنے کیلئے جے یو آئی(ف) کا پرتشدد احتجاج

پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ ، متعدد زخمی، درجنوں گرفتار، مظاہرین کا میڈیا ہاوسز کی گاڑیوں پر بھی پتھرائو

اتوار مئی 15:30

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) فاٹاانضمام بل کی خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظوری کا راستہ روکنے کیلئے جے یو آئی(ف) کی جانب سے اتوار کے روز پر تشدد مظاہرہ کیا گیا ۔مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت متعدد مظاہرین زخمی ہو ئے جبکہ مظاہرین کے پتھرائو کے نتیجے میں احتجاج کی کوریج کرنے والے ٹی وی چینلز کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا اور انکے عملے کے اہلکاروں کو چوٹیں بھی آئیںاس دوران دو درجن کے لگ بھگ مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) نے صوبائی اسمبلی میں فاٹا انضمام بل پیش ہونے کے موقعے پر احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا،اسی سلسلے میں جمعیت کے کارکن اتوار کے روز صبح دس بجے خیبر پختونخوا سمبلی کے سامنے جمع ہونا شروع ہوئے اور انھوں نے اسمبلی کے گیٹ کے سامنے دھرنا دیا ،اس دوران پولیس افسران نے مظاہرین کی قیادت کرنے والے جے یو آئی کے راہنماوںمفتی عبدالشکور اور دیگر کے ساتھ مذاکرات کئے اور انھیں مظاہرین کو پر امن رکھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ،موقعے پر موجود جے یو آئی کے قائدین بھی بظاہر مظاہرین کو پر امن رکھنا چاہ رہے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جے یو آئی کے کارکنوں کا رویہ جارحانہ ہوتا رہا ، انھوں نے اسمبلی کے سامنے مین روڈ ٹائر جلا کر بلاک کر دی اور پھر وہ اسمبلی کے گیٹ کے سامنے ہجوم کی شکل میں جمع ہوگئے ، کئی مظاہرین جنھوں نے ڈنڈے اٹھا رکھے تھے نے اسمبلی کے گیٹ اور دیوار پرڈنڈے بھی برسائے۔

(جاری ہے)

جب اراکین اسمبلی کی آمد کا سلسلہ شروع ہواتو مظاہرین نے اراکین اسمبلی کو اسمبلی کے اندر جانے سے روک دیا ، مظاہرین کا کہناتھا کہ وہ نہ اراکین اسمبلی کو اندر جانے دیں گے اور نہ ہی اجلاس منعقد ہو نے دیں گے ، بعض مظاہرین نے خود ااسمبلی کے اندر زبردستی داخل ہونے کی کوشش بھی کی ۔اس موقعے پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے بعد مظاہرین پیچھے ہٹے تاہم انھوں نے پولیس پر پتھرائو شروع کر دیا ،،پولیس کی جانب سے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ،،پولیس کے لاٹھی چارج کے نتیجے میں بعض مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ مظاہرین کے شدید پتھرائو کے باعث دو پولیس اہلکار،اور میڈیا ہاوسز کی گاڑیوںکے عملے کے اراکین بھی زخمی ہو ئے اور ان گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،،پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ کچھ دیر جاری رہی جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے ۔