پاکستان میں ہر سال 70 ارب ڈالر کا پانی سمندر کی نذر ہو جاتا ہے،اقوام متحدہ

اتوار مئی 20:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) پاکستان میں ہر سال 70 ارب ڈالر کا پانی سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ آبی وسائل کی دستیابی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 1950 ئ میں ملک میں پانی کی فی کس دستیابی 5 ہزار کیوبک میٹر تھی جو 2015ء میں کم ہو کر ایک ہزار کیوبک میٹر ہو گئی ہے جبکہ 2009ء کے دوران پاکستان میں فی کس 1500 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار پانی کی قلت کے مسائل کا سامنا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے اور اس وقت پاکستان میں کل دریائی پانی 153 ملین ایکڑ فٹ ہے جبکہ زیر زمین پانی کا تخمینہ 24 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ آبادی کی شرح میں ہونے والے موجودہ اضافہ کے تناظر اور اگر آبی دخائر تعمیر نہ کئے گئے تو سال 2025ء تک پاکستان کو 33 ملین ایکڑ فٹ پانی کی قلت کا سامنا ہوگا۔ آبی وسائل کے ماہرین نے کہا کہ پانی کی مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر آبی ذخائر کی تعمیر پرمصنوعی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ 70 ارب ڈالر مالیت کے پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکی