گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول نملی میرا میں کلاس فور جھگڑے کا معاملہ طول پکڑ گیا

پیر مئی 20:12

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول نملی میرا میں کلاس فور جھگڑے کا معاملہ طول پکڑ گیا۔ منتخب کونسلروں کے جرگہ میں بھی معاملہ حل نہیں ہو سکا۔ سکول میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں تحصیل ممبر دلدار اعوان، یوتھ کونسلر راجہ حسین، جنرل کونسلر گریز، لیڈی کونسلر غزالہ نذر کے علاوہ سردار دلدار، محمد اشرف اور محمد طفیل نے شرکت کی۔

اس دوران سکول میں کلاس فور ملازمین سردار عابد اور سعد کے درمیان تنازعہ کو افہام و تفہیم کے ذریعہ ختم کرنے کیلئے سردار عابد کو وہاں بلایا گیا جس کے انکار پر ایک جرگہ تشکیل دے کر اس کے ممبران عابدکے گھر گئے مگر اس نے جرگہ کی کوئی بھی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ سکول میں موجود ایک ٹیچر نے واقعہ سے متعلق بتایا کہ سردار عابد نے اس کے سامنے سکول کی دیوار سے چھلانگ لگا ئی جس سے اس کے پائوں پر سوجن ہو گئی مگر اس نے سعد نامی دوسرے کلاس فور پر مار پیٹ اور پائوں توڑنے کا الزام لگا کر جھوٹی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی۔

(جاری ہے)

مذکوہ ٹیچر نے مزید بتایا کہ سعد کے جس بھائی کی سکول آمد کا عابد نے الزام لگایا، وہ سکول میں داخل نہیں ہوا اور جب عابد نے دیوار سے چلانگ لگائی تو سعد کا بھائی سکول سے باہر تھا۔ نملی میرا کے عوام نے سکول انتظامیہ کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کام چور ملازمین پرنسپل کے خلاف پراپیگنڈہ کر کے اپنی کام چوریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر ر ہے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سکول پرنسپل نے بھی دونوں ملازمین کو جھگڑا ختم کرنے کی ہدایت کی تھی مگر عابد کی بہن جو اسی سکول میں ملازمہ ہے، نے پرنسپل پر حملہ کر کے اس کی چادر پھاڑ دی تھی اور یہ تمام واقعہ پولیس کی وہاں آمد پر متعلقہ ایس ایچ کو بتایا گیا جبکہ عابد اور سعد نے بھی تمام واقعہ کی تفصیل سے پولیس کو آگاہ کر دیا تھا جس کے بعد پولیس عابد کو اپنے ساتھ تھانہ لے گئی۔ ادھر سکول انتظامیہ نے تمام رپورٹ ڈی ای محکمہ تعلیم کو بھجوا دی ہے جس پر کارروائی اگلے ایک دو روز میں سامنے آنے کا امکان ہے تاہم دو کلاس فور ملازمین کے جھگڑے نے پورے علاقہ میں افواہوں اور دھڑے بندیوں کا ماحول پیدا کر دیا ہے اور شر پسند عناصر اسے کسی بڑے فساد کی طرف لے جانے کی کوشش کر ر ہے ہیں۔