حکومت نے صدر مملکت کی تنخواہ تمام وفاقی ملازمین سے زیادہ کر نے کا بل پیش کر دیا

بل کے تحت صدر کی تنخواہ کسی بھی سرکاری عہدیدار کی تنخواہ کی نسبت علامتاً ایک روپیہ زائد ہو گی، اپوزیشن جماعتوں نے صدر کی تنخواہ میں اضافہ کر نے کے بل کی مخالفت کر تے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور کہا کہ صدر کے پاس نہ کوئی اتھارٹی ہے اور نہ ہی وہ کوئی کام کرتے ہیں، ہم مہنگا ایوان صدر سنبھال رہے ہیں، ورکرز کو تنخواہیں نہیں دے رہے اور صدر کی تنخواہیں بڑھا رہے ہیں ایک اور کالا داغ اپنی حکومت پر مت لگائیںایوان صدر کا خرچہ اربوں میں ہوتا ہے، اس کے باوجود انہیں تنخواہ چاہییتو ہماری تنخواہیں بھی دے دیں،اسمبلی کی مدت ختم ہونے والی ہے یہ بل پہلے لایا جاتا ، صدر کی تنخواہ میں اضافہ زیادتی ہے شیریں مزاری ، رشید گوڈیل ، اور صاحبزادہ طارق اللہ کی صدر کی تنخواہ بڑھانے سے متعلق بل پر بحث

پیر مئی 20:31

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں حکومت نے صدر مملکت کی تنخواہ تمام وفاقی ملازمین سے زیادہ کر نے کا بل پیش کر دیا ،بل کے تحت صدر کی تنخواہ کسی بھی سرکاری عہدیدار کی تنخواہ کی نسبت علامتاً ایک روپیہ زائد ہو گی، اپوزیشن جماعتوں نے صدر کی تنخواہ میں اضافہ کر نے کے بل کی مخالفت کر تے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور کہا کہ صدر کے پاس نہ کوئی اتھارٹی ہے اور نہ ہی وہ کوئی کام کرتے ہیں، ہم مہنگا ایوان صدر سنبھال رہے ہیں، ورکرز کو تنخواہیں نہیں دے رہے اور صدر کی تنخواہیں بڑھا رہے ہیں ایک اور کالا داغ اپنی حکومت پر مت لگائیںایوان صدر کا خرچہ اربوں میں ہوتا ہے، اس کے باوجود انہیں تنخواہ چاہئیے تو ہماری تنخواہیں بھی دے دیں،،اسمبلی کی مدت ختم ہونے والی ہے یہ بل پہلے لایا جاتا ، صدر کی تنخواہ میں اضافہ زیادتی ہے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار پیر کو شیریں مزاری ، رشید گوڈیل ، اور صاحبزادہ طارق اللہ نے صدر کی تنخواہ بڑھانے سے متعلق بل پر بحث کر تے ہوئے کیا ۔پیر کو قومی اسمبلی میں وزیر پالیمانی امور شیخ آفتاب نے صدر کی تنخواہ ، الائونسزاور مراعات ایکٹ ، 1975میں مزید ترمیم کر نے کا بل ( صدر کی تنخواہ ،الائونسز،اور مراعات(ترمیمی )بل 2018پیش کیا ، بل کے تحت حکومت سرکاری جریدے میں اعلان کے ذریعے ، صدر کی تنخواہ میں اضافہ کر نے کے لئے رہنماء اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے جدول چہارم میں ترمیم کر ے گی کہ صدر کی اجرت وفاق کے امور کے سلسلے میں کسی بھی سرکاری عہدیدار کی تنخواہ کی نسبت علامتا ایک روپیہ زائد ہو گی ، بل کے تحت صدر کی تنخواہ آٹھ لاکھ چھیالیس ہزار پانچ سو پچاس روپے کی جائے گی ،مختلف سیاسی جاعتوں کے ارکان نے بل کی مخالفت کر دی ،،ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی رشید گوڈیل نے کہا کہ اس ملک کے صدر کی بات ہو رہی ہے، اس سے پہلے اساتذہ کی تنخواہ کی بات ہو رہی تھی، کوئی کمٹمنٹ دینے کو تیار نہیں تھا، صدر کا احترام ہے، ایوان صدر کا خرچہ اربوں میں ہوتا ہے، اس کے باوجود انہیں تنخواہ چاہئیے تو ہماری تنخواہیں بھی دے دیں، میں کچھ جمع کر کے دے دوں گا، ان کی تنخواہ 22گریڈ کے افسر کے برابر کر دیں، تنخواہوں کے معاملے سیکرٹریز کے برابر کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ پابندی لگا دیں کہ جو رکن اسمبلی بن جائے وہ کاروبار نہیں کر سکتا وہ اپنی زمینیں پانچ سال کیلئے چھوڑ دے، انڈسٹری چھوڑ دیتے تو پانامہ میں نام نہ آتا۔۔پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری نے کہا کہ کس منہ سے آپ صدر کی تنخواہ میں اضافے کا بل لا رہے ہیں کہ ساڑھے آٹھ لاکھ روپے تنخواہ کر دی جائے، ان کے پاس نہ کوئی اتھارٹی ہے اور نہ ہی وہ کوئی کام کرتے ہیں، ہم مہنگا ایوان صدر سنبھال رہے ہیں، ورکرز کو تنخواہیں نہیں دے رہے اور صدر کی تنخواہیں بڑھا رہے ہیں ایک اور کالا داغ اپنی حکومت پر مت لگائیں۔

جماعت اسلامی کے رہنماء صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے والی ہے اور یہ بل لایا گیا ہے ، یہ بل پہلے لایا جاتا ، انہوں نے کوئی درخواست دی ہو گی ، صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ صدر کی تنخواہ میں اضافہ زیادتی ہے ،