بارود برآمدگی کیس میں ماتحت عدالت کا فیصلہ معطل،اپیل منظور

دونون ملزمان کو5لاکھ روپے فی کس کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم

منگل مئی 19:32

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور چوہدری عبدالعزیز پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بارود برآمدگی کے 2الگ الگ مقدمات میں ماتحت عدالت سے سزا پانے والے ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ماتح عدالت کا فیصلہ معطل کردیا ہے اور دونون ملزمان کو5لاکھ روپے فی کس کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)نے حافظ محمد طیب سکنہ بہاولپور کوسال2016میں گرفتار کر کے 1100گرام بارود ، 10فٹ فیوز سیفٹی وائر اور ڈیٹونیٹرز برآمدگی کا مقدمہ نمبر45درج کیا تھا جبکہ عزت اللہ سکنہ مہمند ایجنسی کو گزشتہ سال گرفتار کر کے 435گرام بارود ،5فٹ فیوزسیفٹی وائر اور3ڈیٹونیٹر برآمدگی کا مقدمہ نمبر10درج کیا تھا انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر1کے جج محمد اصغر خان نے دونوں مقدمات کا الگ الگ ٹرائل مکمل ہونے پر ھافظ محمد طیب کو رواں سال28مارچ اور عزت اللہ کو گزشتہ سال2نومبر کو 2،2سال قید کی سزا سنائی تھی جس پر دونوں ملزمان نے اپنے وکیل مولانا محمد وجیہ اللہ ایڈووکیٹ کے ذریعے ہائی کورٹ میں الگ الگ اپیلیں دائر کی تھیں ہائی کورٹ نے گزشتہ روز دونوں اپیلوں کی سماعت مکمل ہونے پر اپیل کنندگان کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ معطل کر دیا اور دونوں ملزمان کو5لاکھ روپے فی کس کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے ۔

متعلقہ عنوان :