سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات، نشریات کا اجلاس

پی ٹی وی کو غیر جانبدار بنانے اور آمدن بڑھانے کے لئے مربوط میکنزم بنانے پراتفاق، گذشہ ایک سال کے دوران براہ راست کوریج اور نیوز میں صوبوں اور صوبائی حکومتوں کی کوریج کے تناسب پر مشتمل رپورٹ طلب پی ٹی وی کے پنشنرز کی ماہانہ پنشن میں یکم جولائی سے 10فیصد اضافہ اور عیدالفطر سے قبل 700 ملین روپے سے پی ٹی وی کے 2016 سے پنشن کے زیر التواء کیسز میں ادائیگیاں کی جائیں گی، تحلیل ہونے والی وفاقی وزراتوں کے ایڈورٹائرنگ کے بلوں سمیت مختلف اداروں نی5317.81 ملین روپے کے بقایا جات اداکرنے ہیں، پی ٹی وی کے چینلز کو ایچ ڈی پر لانے اور سٹوڈیوز اپ گریڈیشن کے لئے فنڈز درکا ر ہیں، سیکرٹری اطلاعات و ایم ڈی پی ٹی وی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

منگل مئی 19:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ نے ریاستی میڈیا بالخصوص پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کو غیر جانبدار بنانے اور اس کی ساکھ کو بہتر کرتے ہوئے آمدن بڑھانے کے لئے اتفاق رائے سے مربوط میکنزم بنانے پراتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی وی کو عالمی نشریاتی ادارہ کی طرز کا براڈ کاسٹ ادارہ بنانے چاہتے ہیں جو غیر جانبداری کے ساتھ چل کر اپنی آمدن ، ناظرین کی تعداد اور اعتماد کو بڑھتا ہے، ایسا میکنزم ہونا چاہیے کہ ہر دور حکومت میں وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں، برسراقتدار سیاسی جماعت اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی ریاستی میڈیا پر مساودی کوریج مل سکے ،کمیٹی نے پی ٹی وی کے حکام سے گذشہ ایک سال کے دوران پی ٹی وی کی تمام براہ راست کوریج اور نیوز میں صوبوں اور صوبائی حکومتوں کی کوریج کے تناسب پر مشتمل رپورٹ طلب کرلی ہے، ایم ڈی پی ٹی وی نے کمٹیی کو یقین دہانی کرائی کہ پی ٹی وی کے پنشنرز کی ماہانہ پنشن میں یکم جولائی سے 10فیصد اضافہ اور عیدالفطر سے قبل 700 ملین روپے سے پی ٹی وی کے 2016 سے پنشن کے زیر التواء کیسز میں ادائیگیاں کی جائیں گی، تحلیل ہونے والی وفاقی وزراتوں کے ایڈورٹائرنگ کے بلوں سمیت مختلف اداروں نی5317.81 ملین روپے کے بقایا جات اداکرنے ہیں، پی ٹی وی کے چینلز کو ایچ ڈی پر لانے اور سٹوڈیوز اپ گریڈیشن کے لئے فنڈز درکا ر ہیں۔

(جاری ہے)

منگل کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔سیکرٹری اطلاعات و نشریات سردار احمد نواز سکھیرا، ڈپٹی ایم ڈی پی ٹی وی ظہور برلاس سمیت پی ٹی وی اور پی آئی ڈی کے حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات و نشریات و ایم ڈی پی ٹی وی سردار احمد نواز سکھیرا نے بتایا کہ پی ٹی وی کے اس وقت 8 چینلز چل رہے ہیں ، پی ٹی وی پارلیمنٹ کے لئے اس سال اے ڈی پی میں 330 ملین روپے رکھ دیئے گئے ہیں، جلد پی ٹی وی پارلیمنٹ بھی شروع کیا جائے گا جس پر دونوں ایوانوں اور 7 کمیٹی رومز میں اجلاس کی کارروائی براہ راست نشر ہوسکے گی، پی ٹی وی پر بچوں کے لئے مقامی زبان کی ڈبنگ کے ساتھ کارٹونز بھی پیش کیے جارہے ہیں تا کہ بھارتی مواد کا بہتر انداز سے مقابلہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی سپورٹس میں سب سے زیادہ آمدن کرکٹ میچز سے ہوتی ہے اگر ہم کرکٹ کا الگ چینل کر لیں تو باقی کھیلوں کو بھی بہتر انداز سے اجاگر کیا جاسکے گا، دنیا کے کئی ممالک میں کرکٹ کے الگ سے چینل چل رہے ہیں، پی ٹی وی سپورٹس پر مقامی کھیلوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیا جاسکے گا، گذشتہ دنوں بلوچستان میں فٹ بال میچ پی ٹی وی سپورٹس پر براہ راست دکھایا گیا اس پر 2.2 ملین روپے کے اخراجات آئے، فٹ بال ٹیم کا کپتان کوئلہ کی کان میں کام کرنے والا نوجوان تھا جسے پورے پاکستان اور دنیا بھر کے لوگوں نے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ کیبلز آپریٹرز کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ پی ٹی وی کے 8 چینلز کو کیبل کے ذریعے دکھا سکیں لیکن ڈی ٹی ایچ آنے کے بعد تمام چینلز دکھائے جاسکیں گے۔ سردار احمد نواز سکھیرا نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم چاہتے کہ پی ٹی وی کے ایم ڈی کے اختیارات پی ٹی وی کے چینلز کے سربراہ کو سونپے جائیں اور وہ ہی آمدن کے حوالے سے بھی جوابدہ ہوسکیں، اسی طرح سیلز آفس کو بھی چینلز کی حد تک لے جانا چاہتے ہیں، ابھی ایک ہی چیف سیلز آفیسر جوابدہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی وی کا سروس سٹرکچر بھی بہتر نہیں ہے، جو بھی پچھلے دروازے سے آتا ہے مرضی کی مراعات لیتا ہے لیکن کام نہیں کرتا، ہمارے اینکرز کی استعدار کار بھی کم ہے، ٹریننگ کا بھی فقدان ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے فیصل جاوید نے استفسار کیا کہ پی ٹی وی نیوز کی آمدن کیوں کم ہے، پی ٹی وی کی نیوز کی کریڈیبلٹی ہونا ضروری ہے، جس دن یہ غیر جاندار ہو گا پی ٹی وی نیوز کی ریٹنگ اور آمدن بڑھے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی وی کے سرکاری اداروں اور ایڈورٹائزر کے ذمہ 5 ارب 31 کروڑ روپے واجب الادا ہیں، ایڈوارئزر کے ذمے پی ٹی وی کے 1 ارب 21 کروڑ روپے ہیں، پی ٹی وی کے ڈسکوز کے ذمے 30 کروڑ ، ایف بی آر کے ذمے 70 کروڑ روپے واجب الادا ہیں ،صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں کے ذمے 33 کروڑ روپے واجب الادا ہیں، اگر یہ بقایا جات ہمیں مل جائیں توپی ٹی وی کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے ۔