الیکشن کمیشن: پی ٹی آئی کے اسکروٹنی کمیٹی پر اعتراضات مسترد

الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کیخلاف مبینہ غیرملکی فنڈنگ کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،پی ٹی آئی غیرملکی پارٹی فنڈنگ سے متعلق تحقیقاتی ٹیم کام جاری رکھے گی۔الیکشن کمیشن

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ مئی 14:37

الیکشن کمیشن: پی ٹی آئی کے اسکروٹنی کمیٹی پر اعتراضات مسترد
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔30 مئی 2018ء) : الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پی ٹی آئی کیخلاف مبینہ غیرملکی فنڈنگ کا معاملے پراہم پیشرفت ہوئی ہے،،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے اسکروٹنی کمیٹی پراعتراضات مسترد کردیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے ٹی آراوز کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ جس میں الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی پرپی ٹی آئی کے اعتراضات مسترد کردیے ہیں۔

پی ٹی آئی نے اسکروٹنی کمیٹی کے ٹی اوآرز اور طریقہ کار پراعتراضات کیے تھے۔۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی غیرملکی پارٹی فنڈنگ سے متعلق تحقیقاتی ٹیم کام جاری رکھے گی۔۔الیکشن کمیشن نے کمیٹی کو مقررہ وقت پر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ واضح رہے لیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے اعتراضات پر28مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

(جاری ہے)

واضح رہے 28مئی کو تحریک انصاف نے غیر ملکی فنڈنگ پر بنائی گئی سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز پر اعتراضات پر تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا،کیس کی سماعت کے دوران بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ہیں،،پی ٹی آئی کو 2009 سے 2013 تک اکاو نٹس کی چھان بین پر کوئی اعتراض نہیں،اکاونٹس کی سکروٹنی شفاف ہونی چاہیے،عمران خان اور تحریک انصاف کوالیکشن کمیشن کے سکروٹنی اختیار پر کوئی اعتراض نہیں، کسی فرد کو پارٹی میں شامل کرنا نکالنا پارٹی کا اختیار ہے،،الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے اکاو نٹس کی چھان بین تیسرے فریق کے سامنے نہیں کرسکتا، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی ۔

پیر کو الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی مبینہ غیر ملکی پارٹی فنڈنگ سے متعلق کیس کی سماعتچیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کی ،،پی ٹی آئی کی جانب سے بابر اعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،،پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ پر بنائی سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز کو چینلج کیا تھا،،پی ٹی آئی نے سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز پر اعتراضات پر تحریری جواب جمع کروا دیا، بابر اعوان نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ہیں،،پی ٹی آئی کو 2009 سے 2013 تک اکاونٹس کی چھان بین پر کوئی اعتراض نہیں،اکاو نٹس کی سکروٹنی شفاف ہونی چاہیے،،عمران خان اور تحریک انصاف کوالیکشن کمیشن کے سکروٹنی اختیار پر کوئی اعتراض نہیں،،بابر اعوان نے کہا کہ کسی فرد کو پارٹی میں شامل کرنا نکالنا پارٹی کا اختیار ہے،،الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے اکاو نٹس کی چھان بین تیسرے فریق کے سامنے نہیں کرسکتا،بابر اعوان نے حنیف عباسی عمران خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ بھی دیا ،،بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی پر غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات من گھڑت،بے بنیاد،بدنیتی پر مبنی ہیں،اکبر ایس بابر بدنیتی پر مبنی الزامات لگا رہے ہیں،حنیف عباسی عمران خان کیس میں سپریم کورٹ نے پارٹی کے اکاو نٹس کی تحقیقات کا پیرا میٹر بنایا ہے، درخواستگزار اکبر ایس بابر کے وکیل احمد منصور نے دلائل دیتے ہوئے بتایاکہ تحریک انصاف پارٹی کارکنان کو نکالنے کے لیے بھی کوئی ثبوت نہیں دے سکی۔

تحریک انصاف اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکالنے کا ثبوت دے۔پارٹی آئین کے مطابق بغیر کسی نوٹس کے کسی کو نکالا نہیں جا سکتا۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پارٹی فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کے حق میں فیصلہ دیا تھا، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی۔ تاہم آج الیکشن کمیشن نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔