پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی، پرائمری و سیکنڈری ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پنجاب کے زیرِ اہتمام ہیلتھ پالیسی رائونڈ ٹیبل سیریز کے سلسلے کی چوتھی کڑی

- پنجاب میں پبلک ہیلتھ کو مضبوط بنانے کیلئے موجودہ چیلنجز اور ضروری پالیسی اقدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا

بدھ مئی 19:20

لاہور۔30 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی، پرائمری و سیکنڈری ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پنجاب کے زیرِ اہتمام ہیلتھ پالیسی رائونڈ ٹیبل سیریز کے سلسلے کی چوتھی کڑی - ’پنجاب میں پبلک ہیلتھ پروفیشنلزسے متعلقہ پالیسی اقدامات‘ کے عنوان سے منعقد کی گئی۔اس تقریب میںپنجاب میں پبلک ہیلتھ کو ایک شعبے کے طور پر مضبوط بنانے کیلئے موجودہ چیلنجز اور ضروری پالیسی اقدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس وقت پوسٹ گریجویٹ پبلک ہیلتھ پروگرام صرف چند ادارے آفر کر رہے ہیں۔جس میں زیادہ تر حصہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ IPHکا ہے جو پبلک ہیلتھ پوسٹ گریجویٹ، ماں اور بچہ کی صحت اور ہسپتال کے انتظامی امور کے شعبہء جات کو فروغ دے رہا ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ IPHکمیونٹی میڈیسن کے شعبے میں ایم فل فراہم کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اپنے چندپبلک اور نجی میڈیکل کالجز کے ذریعے کمیونٹی میڈیسن کے شعبے میںپوسٹ گریجویٹ پروگرام فراہم کر رہا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی نے حال ہی میں پبلک ہیلتھ میں پی ایچ ڈی کا پروگرام متعارف کیا ہے۔پالیسی رائونڈٹیبل کا مقصدہیلتھ پروفیشنلز کیلئے پبلک ہیلتھ کو ترجیحی کیریئر بنانے کیلئے مختلف پالیسی کے اقدامات پر غور کرنا ہے۔اگلے پانچ سالوں کیلئے اس پالیسی کے اقدامات پر متعدد ہدایات سامنے آئیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شبنم سرفراز ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ،،پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی نے شرکاء کی آمد کا خیر مقدم کیا ۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر شکیلہ زمان نے بتایا کہ ایپیڈیمیولوجیسٹس EPIDEMIOLOGISTSکی اہمیت کو یقینی بنانے کیلئے UHSاس سال ایپیڈیمیولوجی میں ایم ایس سی کا آغاز کر رہا ہے۔۔ڈاکٹر شکیلہ زمان نے پبلک ہیلتھ کیلئے ایک یونیورسٹی کے قیام پربھی زور دیا۔ڈین آئی پی ایچ ڈاکٹر تجمل نے پبلک ہیلتھ میں مزیداسپیشیلٹیز کے تعارف پر زور دیا، جس سے صوبے کی ترقی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

سابق Dean IPHڈاکٹر شاہینہ منظور نے زور دیا کہ کسی بھی پبلک ہیلتھ کے پروگرام کو شروع کرنے سے قبل PMDC اور HEC سے شناخت کو یقینی بنایا جائے۔شرکاء کی جانب سے نمایاں چیلینجز پیش کیے گئے جس میں: پبلک ہیلتھ کے پیشے کے احترام کا فقدان، مارکیٹ میں محدود ملازمتیں،پبلک ہیلتھ سے وابستہ صرف چند مخصوص ادارے اور پروگرا م اور سروس سٹرکچرکا نہ ہونا شامل ہیں۔

سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسزڈاکٹر تنویر احمدنے پبلک ہیلتھ کے شعبے میں مزید تحقیقی مطالعہ کا مشورہ دیا ۔ اس موقع پر ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے گئی جو کہ اس کا جائزہ اور تجویز کردہ چیلینجزپر عملدرآمد کرا سکے۔WHO کے ڈاکٹر جمشید نے داخلہ سطح پر طالبعلموں کیلئے کیرئیر مشاورت کی ضرورت کی سفارش کی۔رائو نڈ ٹیبل کے شرکاء میں Dean IPH،یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور اس سے وابستہ پبلک اور نجی سیکٹر کی سینئر پبلک ہیلتھ فیکلٹی،کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی،،فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، ایکس ڈی جی ہیلتھ سروسز، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرڈیپارٹمنٹ، اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اورماہرین شامل تھے۔

موقع پر موجود سینئر پبلک ہیلتھ فیکلٹی ممبران نے حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کی پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی کا قیام ایک نہایت اہم اور ضروری اقدام ہے۔اس ادارہ کا قیام حکومتِ وقت کی موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کی بہتر صحت کیلئے کیے جانے والے اقدامات کی عکاس ہے۔پی پی ایچ اے پہلا صوبائی ادارہ ہے جو پبلک ہیلتھ سے متعلقہ تمام پہلوئوں کیلئے کام کرے گا۔

اور دوسرے صوبوں کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھے گا۔ حکومتِ پنجاب نے پی پی ایچ اے کیلئے 1.3بلین روپے مختص کئے ہیں۔یہ ادارہ پبلک ہیلتھ پروفیشنلز کیلئے سب سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔اس وقت ادارہ میں 285پبلک ہیلتھ سے متعلقہ سیٹیں، صوبائی و ضلعی سطح پر منظور شدہ ہیں۔ نومبر 2017 میں پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی کو انٹرنیشنل ایسوسی ایشن برائے نیشنل پبلک ہیلتھ انسٹیٹیوٹ (IANPHI)کی ممبر شپ حاصل ہوئی جو کہ 93ممالک پر مشتمل عالمی سطح پر موجود ایک اہم ادارہ ہے۔