اُردو نعتوں کا معیار دیگر زبانوں میں کہی گئی نعتوں سے کسی طور کم نہیں، افتخار عارف

جمعرات مئی 14:14

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) ہماری نعتیہ شاعری نے مجموعی اُردو شاعری کو ثروت مند بنایا ۔ ان خیالات کا اظہار اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت منعقد ہونے والے نعتیہ مشاعرے کے موقع پر افتخار عارف نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ مشاعرے کے مہمان خصوصی احسان اکبرتھے جبکہ نظامت علی یاسر نے کی۔افتخار عارف نے کہا کہ ہمارے ہاں اُردو میںبہت اچھی نعتیں لکھی گئی ہیں۔

کہا جاسکتا ہے کہ نعتیہ شاعری نے ہماری مجموعی اردو شاعر ی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اُردو میں کہی گئی نعتوں کا معیار دیگر زبانوں میں کہی گئی نعتوں سے کسی بھی طور کم نہیں ۔ عرش ہاشمی نے کہا کہ اس طرح کی نعتیہ محافل کے انعقاد پر اکادمی حقیقی معنوں میں مبارک باد کی مستحق ہے۔ ایسی بابرکت محافل سے نئے لوگوں کو سیکھنے کا موقع ملتاہے ۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ نعت کہنا خود احتسابی کے عمل سے گزرنے کے مترادف ہے۔

عرش ہاشمی نے اردو میں معروف نعت گو شعراء کا خصوصی طورپر ذکر کیا کہ جن کی مساعی سے نعت تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ ہمارے جدید شعراء تک پہنچی۔ انھوں نے کہاکہ ماہر القادری، منور بدایونی، بہزاد لکھنوی سے نعت نے عبد العزیز خالد، حافظ لدھیانوی، عاصی کرنالی اور احسان دانش تک سفر کیا ۔ انھوں نے کہا کی حفیظ تائب نے اردو اورپنجابی دونوں زبانوں میں دل آویز نعت کہی ہے۔

انھوں نے کہاکہ نعت کی نزاکتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے حضورسے والہانہ محبت نعت کہنے پر اکساتی ہے۔ڈائریکٹر جنرل اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر راشد حمید نے کہاکہ اکادمی کی روایت ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی مناسبت سے ہم نعتیہ مشاعرہ منعقد کرتے ہیں۔ میں افتخار عارف اور ڈاکٹر احسان اکبر اور دیگر مہمانان گرامی نعت گو شعراء کی مشاعرے میں شرکت پر تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔

اکادمی کے نعتیہ مشاعرے میںافتخار عارف ، احسان اکبر، عرش ہاشمی، سرفراز شاہد، جلیل عالی، علی اکبر عباس، قیوم طاہر، جاوید احمد، انجم خلیق، وفاچشتی، اختر عثمان، اصغر عابد، سید ابرار حسین، ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، حافظ نور احمد قادری، ذوالفقار دانش، منیر فیاض، پیر عتیق چشتی، سائل نظامی، نگہت یاسمین، زہرا بتول زہرا، ناصر منگل، فرحانہ، علی، حسن عباس رضا، اختر رضاسلیمی اور علی یاسر نے بارگاہ نبوت میں منظوم ہد یہ نعت پیش کیا۔