25 جولائی کا سورج ملک میں متحدہ مجلس عمل کے کامیابی کا نوید لیکر طلوع ہوگا ،مولانا عبدالغفور حیدری

جمعہ جون 21:21

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل و مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایم ایم اے مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ یہاں عوامی قیادت کا فقدا ن ہے ماضی میں حکمرانوں نے عوامی مفادات کے برعکس کام کیا ،،متحدہ مجلس عمل کی بحالی سے لا دین قوتیں خائف ہیں ، جمعیت کو عوامی طاقت بننے سے کوئی روک نہیں سکتا،انہوں نے یہ بات جمعیت علماء اسلام کے صوبائی رہنماء سرپرست تحصیل جوہان سردارزادہ میر زاہدجان لہڑی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہی، مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ آئے روز نامور قبائلی وسیاسی شخصیات اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت جمعیت علماء اسلام کے کارواں میں جوق در جوق شامل ہورہی ہیں جوہان نرمک سے مختلف جماعتوں مسلم لیگ ن،، بی این پی مینگل اور مختلف قبائل لہڑی بنگلزئی مینگل شاہوانی بلوچ اور قبائلی وسیاسی رہنماؤں میر شبیراحمد لہڑی میر عبد الباقی بنگلزئی میر سبزل خان بنگلزئی کامریڈ بابل لہڑی میر عبدالکریم لہڑی محمد نور بنگلزئی حاجی عطاء محمد شاہوانی غلام مصطفی لہڑی ٹکری ضیاء الحق لہڑی میر سعید جان بنگلزئی رحیم بخش لہڑی محمد حنیف بنگلزئی داد محمد بنگلزئی کو ہزاروں ساتھیوں سمیت جمعیت علماء اسلام میں شمولیت پر تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے لیکن صوبہ پسماندہ ہے اس کی وجہ لیڈر شپ ہے ان کا صوبہ کے ترقی عوام کے خوشحالی پر کوئی توجہ نہیں اسوجہ سے لوگ پارٹیاں چھوڑ کر جمعیت علماء اسلام کے قافلہ میں شامل ہو رہے ہیں جمعیت علماء اسلام صوبہ بھر میں ایک عوامی قوت بن کر ابھر رہی ہے یہ سب قیادت اور مخلص کارکنوں کی محنتوں کا ثمر ہے کہ ملک میں جمعیت علماء اسلام کی مقبولیت سے لادین قوتیں پریشان ہیں جمعیت علماء اسلام کے قائدین کی کوششوں سے ملک کے تمام مزہب فکر کو ایک پیچ پر متحد کرکے دینی جماعتوں کے ووٹ بینک کو محفوظ کیا مولانا حیدری نے مزید کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے بحالی سے لادین قوتیں خائف ہیں25 جولائی کا سورج ملک میں متحدہ مجلس عمل کے کامیابی کا نوید لیکر طلوع ہوگا ملک میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہوگی متحدہ مجلس عمل اور جمعیت علمائے اسلام کے ماضی کرپشن کمیشن سے پاک صاف شفاف جماعت ہے ماضی میں دھاندلی سے جیتنے والے عوامی مسائل کے حل کے بجائے کرپشن کمیشن اور اقرابا پارودی کو فروغ دیا