سپیکر قومی اسمبلی کا کاغذات نامزدگی فارم میں تبدیلی کا معاملہ ہائیکورت کا فیصلہ

چیلنج کرنے کا اعلان پار لیمانی مدت ختم ہونے کے بعد فیصلے دینے والے بر وقت انتخابات نہیں چاہتے ‘ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے جج صاحبان کا کردار ٹھیک ہے بھی یا نہیں ‘ کسی سازش کی پروا نہیں عام انتخابات وقت پرہی ہوں گے ‘تحر یک انصاف سے کوئی توقع نہیں کل کو نیو کلیئر کا بٹن دبائیں گے اور پھر کہیں گے ہم فیصلہ واپس لیتے ہیں ‘نگران وزیر اعلی کیلئے تحر یک انصاف خود نام دیکر واپسی لے لیتی ہے اس سے انکی سوچ عیاں ہوتی ہے ‘جو الیکشن ایکٹ ریفارمز پار لیمنٹ منظور کر چکی ہے اس کو ایک جج صاحبہ نے ختم کر دیا‘سردار ایاز صادق کی میڈیا سے گفتگو

ہفتہ جون 20:03

سپیکر قومی اسمبلی  کا کاغذات نامزدگی فارم میں تبدیلی کا معاملہ  ہائیکورت ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کاغذات نامزدگی فارم میں تبدیلی کا معاملہ ہائیکورت کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو فیصلے پار لیمنٹ کی مدت کے ختم ہونے کے بعد دیتے ہیں وہ نہیں چاہتے ملک میں عام انتخابات بروقت ہوں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ جج صاحبان کا کردار ٹھیک ہے بھی یا نہیں ‘ کسی سازش کی پروا نہیں عام انتخابات وقت پرہی ہوں گے ‘تحر یک انصاف سے کوئی توقع نہیں کل کو نیو کلیئر کا بٹن دبائیں گے اور پھر کہیں گے ہم فیصلہ واپس لیتے ہیں ‘نگران وزیر اعلی کیلئے تحر یک انصاف خود نام دیکر واپسی لے لیتی ہے اس سے انکی سوچ عیاں ہوتی ہے ‘جو الیکشن ایکٹ ریفارمز پار لیمنٹ منظور کر چکی ہے اس کو ایک جج صاحبہ نے ختم کر دیا ۔

(جاری ہے)

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ تحر یک انصاف سے کسی قسم کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی کل کینٹ بنائیں گے تو ختم کر دیں گے نیوکلئیر کا بٹن دبائیں گے تو کہیں گے فیصلہ واپس لے لوجو لوگ اتنے کنفیوژڈ ہیں اپنے نام دے کر واپس لے لیتے ہیں ان سے کیا تو قع کرسکتے ہو جن کے نام واپس لئے ان کے کردار اچھے تھے ان کی ذہنیت سے عیاں ہوتی ہے یہ ملک کو کیا چلائیں گے بلکہ اس ملک کو مزید کنفیوژ کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جوپارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن ایکٹ ریفارمز پاس کیا اس کو ایک جج صاحبہ نے حکومت ختم کرنے پر فیصلہ دیدیاالیکشن ایکٹ ریفارمز پر جج صاحبہ دو دن کا وقت دیتیں تاکہ پارلیمنٹ سے ترمیم کروا لیتیں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا جج صاحبان کا کردار ٹھیک ہے بھی یا نہیں ن لیگ کے خلاف 2002کی طرح 2018میں بھی سازشیں ہوئیں لیکن جس کے ساتھ اللہ ہو اسے کسی سازش کی پرواہ نہیں ہو تی جو فیصلے پارلیمانی مدت ختم ہونے کے بعد دیتے ہیں وہ نہیں چاہتے الیکشن وقت پر ہوں۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ اسمبلی مدت پوری ہونے کے بعد فیصلہ دیا گیا، الیکشن شیڈول اعلان کرنے کے بعد فیصلہ آتا ہے، سینیٹ کے الیکشن بھی اسی ایکٹ کے تحت ہوئے جس کے تحت نامزدگی فارم جاری کئیگئے، قومی اسمبلی کی تمام جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی موجودگی میں یہ فیصلہ کیا تھا، پارلیمنٹ کی قانون سازی کے خلاف فیصلہ چیلنج کروں گا، الیکشن شیڈول میں ردوبدل نہیں ہونا چاہیے، یہ قومی سطح کے فیصلے ہیں ایسے فیصلے بردباری اور سوچ سمجھ کر کئے جاتے ہیں، فیصلے سوشل میڈیا سے کرانے ہیں تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہے، میں نے لیڈر آف ہائوس اور اور لیڈر آف پارلیمنٹ کو ساتھ بٹھا کر نگراں وزیراعظم کا فیصلہ کرایا، اپیل کروں گا کہ فارم میں تبدیلی سے الیکشن تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں، میری رائے میں الیکشن وقت پر ہونا چاہیے۔