وائس آف مسنگ پرسنز سندھ کی جانب سے سندھ اور بلوچستان کے 142گمشدہ قومی کارکنان کی بازیابی بھوک ہڑتال کیمپ قائم

دھرتی سے عشق کے گناہ میں قومی کارکنان کو گرفتار کرکے غائب کیا گیا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، مظاہرین حکومت اپنے پیاروں کی تلاش میں بھٹکتے خاندانوں کی پرسان حال نہ بن سکی ، خواتین اور بچوں کوتشدد کا نشانہ بنانا قابل مذمت عمل ہے

اتوار جون 18:20

سجاول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) وائس آف مسنگ پرسنز سندھ کی جانب سے سندھ اور بلوچستان کے 142گمشدہ قومی کارکنان کی بازیابی کیلئے سجاول پبلک پارک میں 2 روزہ بھوک ہڑتال کیمپ کا انعقاد کرکے احتجاج کیا گیا۔اس موقع پر بھوک ہڑتالی کیمپ پر بیٹھے مظاہرین نے کہا کہ دھرتی سے عشق کے گناہ میں قومی کارکنان کو گرفتار کرکے غائب کیا گیا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

حکومت اپنے پیاروں کی تلاش میں بھٹکتے خاندانوں کی پرسان حال نہ بن سکی اور قوم کی بیٹیوں کا سہارا بننے کے بجائے خواتین اور بچوں کوتشدد کا نشانہ بنانا قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک اور افواج پاکستان کہ خلاف ہندوستانی زبان بولنے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کو سرعام ملک بھر میں جلسہ کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

کراچی اور بلوچستان سے گرفتار (را)کے ایجنٹوں اور دہشتگردوں کو ملک کی وسیع تر مفاد میں عام معافی دی جارہی ہے تو دوسری طرف پرامن طریقہ سے اپنے آئینی حقوق مانگنے والے سندھیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بناکہ بلاجواز گرفتار کیا جارہا ہے جو انتہائی ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گمشدہ قومی کارکنان کسی بھی جرائم میں ملوث ہیں تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

باقی سندھ کے قومی کارکنوں کو کافی عرصہ غیر قانونی طور پر اپنی حراست میں رکھنے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں سندھی قوم کو تحفہ میں دینا ظلم وزیادتی اور سیاہ رات ہے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ اور بلوچستان سے جبری طور پر غائب کیئے گئے تمام قومی کارکنان کی رہائی کیلئے عدلیہ و انسانی حقوق کے ادارے اپنا قرار ادا کریں۔ وائس آف مسنگ پرسنز کی جانب سے قائم کئے گئے احتجاجی کیمپ میں مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے جدوجہد کمیٹی کے ارکان سمیت جسقم آریسر رہنما اسلم خیرپوری،ایس ٹی پی رہنما گل حسن رند،چاکر رند،ممتاز لغاری،پی پی شہید بھٹو مرکزی رہنما یونس بھان، جسقم بشیر خان رہنما نظیر لغاری سمیت مختلف جماعتوں کے رہنمائوں و کارکنان اور دیگر مکتبہ فکر کے نوجوانوں اور شہریوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے انسانی حقوق کہ اداروں کو اپنا قردار ادا کرنا چاہیے۔