نئے ڈیمزکی عدم تعمیر ،ہرسال 34 ملین ایکٹر فٹ پانی سمندربردہوکرضائع ہورہاہے

پاکستان کاشمار دنیا کے ایسے 15 ممالک میں ہونے لگا، پانی کی دستیابی دبائو کاشکار ہے، ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ

اتوار جون 22:40

بہاول پور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) ملک میں نئے ڈیمزکی تعمیر نہ ہونے کے باعث ہرسال 34 ملین ایکٹر فٹ پانی سمندربردہوکرضائع ہورہاہے پاکستان کاشمار دنیا کے ایسے 15 ممالک میں ہونے لگاہے جہاں پر پانی کی دستیابی دبائو کاشکار ہے ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک کااپنی رپورٹ میں انکشاف تفصیل کے مطابق ماہرین کے مطابق پاکستان کاشمار ایسے ممالک میں ہوتاہے جہاں بین الاقوامی پیمانے کے مطابق ایک ہزار دنوں کی ضرورت کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے مگرحکومت کی جانب سے نئے ڈیمز کی تعمیرکے حوالے سے عدم دلچسپی کے باعث محض پاکستان میں تیس دنوں کی ضروریات کاپانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے آب پاشی کے ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت 13 ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے اورہرسال 34 ملین ایکٹر پانی سمندرمیں گرکاضائع ہورہاہے جسے ماہرین ناقص منصوبہ بندی کانتیجہ قراردیتے ہیں زرائع کے مطابق گذشتہ حکومت نے لیزرسے زمین ہموار کرنے کے آلات دینے اورڈرپ اریگیشن کے پروگرام شروع کئے تھے لیکن معلوم نہیں انکا کیابنا آب پاشی کے زرائع کے مطابق اگرحکومت نے پانی کی کمی کی طرف توجہ نہ دی تو یہ صرف ملک کی داخلی سلامتی ہی نہیں بلکہ خطہ کے امن کیلئے خطرہ بن سکتاہے آبادی کے تیزی سے اضافہ اورزرعی معیشت رکھنے والے ملک میں پانی کی قلت خورا ک کی کمی کے بحران جنم کودے سکتی ہے ملک بھرمیں جوچندایک ڈیمز بنائے بھی جارہے ہیں وہ تھوڑی بہت بجلی پیداکرسکتے ہیں لیکن پانی ذخیرہ کرنے کی کوئی خاص گنجائش نہیں رکھتے ماہرین کے مطابق تقریبا ہرسال سیلاب کے باعث پاکستان میں بربادی کی ایک نئی داستان رقم ہوتی ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے باوجود پاکستان پانی کی کمی کاشکارہورہاہے ۔