الیکشن کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیں گے ،ْ چیف جسٹس سپریم کورٹ

الیکشن کے معاملات جنگی بنیادوں پر چلنے ہیں ،ْالیکشن کمیشن بے بس ہو جائے تو اور بات ہے ،ْالیکشن کمیشن سے ضابطہ اخلاق پر جواب طلب

پیر جون 14:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ الیکشن کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیں گے ،ْالیکشن کمیشن بے بس ہو جائے تو اور بات ہے۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق ورکرز پارٹی کی جانب سے دائر کیس کی سماعت کی۔دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے معاملے پرالیکشن میں تاخیرکا خدشہ تھا ،ْالیکشن کے معاملات جنگی بنیادوں پر چلنے ہیں۔

انہوں نے الیکشن کمیشن سے ضابطہ اخلاق پر جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ نئے اور پرانے ضابطہ اخلاق کا موازنہ کریں گے۔۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ انتخابی اصلاحات پر 2012 میں فیصلہ دے چکی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا تعین بھی کردیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

کیس میں درخواست گزار نے کہا کہ فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ضابطہ اخلاق طے کیا لیکن انہیں خدشہ ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق میں تبدیلی کی گئی ہے۔

اس موقع پر ڈی جی الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے بعد الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کا جائزہ لیا اور تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر نیا ضابطہ اخلاق بنایا۔ڈی جی الیکشن کمیشن نے بتایا کہ نیا ضابطہ اخلاق 2018 کے انتخابات کیلئے بنایا گیا ہے ،ْدرخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود کو بے بس سمجھتا ہے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انتخابات 2 یا 3 ماہ کے لیے ملتوی کرنے والی بات ذہن سے نکال دیں، انتخابات وقت پر ہوں گے ،ْالیکشن کمیشن بے بس ہو جائے تو اور بات ہے، کاغذات نامزدگی کے معاملے پر الیکشن میں تاخیر کا خدشہ تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عوامی ووٹوں سے بننے والی پارلیمنٹ با اختیار ہے اس نے قانون سازی کر دی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں، اب قانون سازی ہو چکی ہے۔اس موقع پر سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی۔