گھوٹکی کے مہرسردارپیپلزپارٹی کی حمایت کے معاملے پرتقسیم

ٹھٹھہ کے شیرازی اورجیکب آباد کے بجارانی خاندان نے پیپلزپارٹی سے ڈیل نہ ہونے پر جی ڈی اے اورتحریک انصاف میں جانے کے لیے پرتول لیے پیپلزپارٹی سے معاملات طے کرنے والے بعض بااثرخاندانوں نے مطلوبہ نشستوں کے لیے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پرجی ڈی اے اورتحریک انصاف کی مدد حاصل کرنے کے آپشن پرکام شروع کردیا

پیر جون 22:39

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) گھوٹکی کے مہرسردارپیپلزپارٹی کی حمایت کے معاملے پرتقسیم جبکہ ٹھٹھہ کے شیرازی اورجیکب آباد کے بجارانی خاندان نے پیپلزپارٹی سے ڈیل نہ ہونے پر جی ڈی اے اورتحریک انصاف میں جانے کے لیے پرتول لیے۔پیپلزپارٹی سے اتحاد اورقومی وصوبائی اسمبلی کی مطلوبہ نشستوں کے حصول کے معاملے پرسندھ کے بااثرخاندان سیاسی طورخاندانی تقسیم اوربے یقینی کا شکارہیں جبکہ پیپلزپارٹی سے معاملات طے کرنے والے بعض بااثرخاندانوں نے مطلوبہ نشستوں کے لیے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پرجی ڈی اے اورتحریک انصاف کی مدد حاصل کرنے کے آپشن پرکام شروع کردیا ہے۔

پیپلزپارٹی میں شمولیت اورمطلوبہ پارٹی ٹکٹ کا معاملہ طے نہ ہونے پرگھوٹکی کا مہرخاندان دوحصوں میں تقسیم ہوگیا ہے گھوٹکی پی ایس 21 سے علی نوازعرف راجہ مہراورپی ایس 20 سے سابق صوبائی وزیراسپورٹس سندھ محمد بخش مہر اورقومی اسمبلی کے حلقہ این اے 205 سے بنگل مہر نے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پرانتخابی معرکہ میں اتریں گے جبکہ سابق وفاقی وزیرعلی گوہرمہرگرینڈ ڈیموکریٹکس الائنس اورسابق وزیراعلی سندھ علی محمد مہرآزاد امیدوارکے طورپرانتخابی معرکے میں اتریں گے ۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں ٹھٹھہ کے شیرازیوں نے مسلم لیگ نون سے ناطہ توڑکرپیپلزپارٹی میں شمولیت کے لیے مشروط ہاں کردی ہے اورمطلوبہ نشستیں ملنے پرپیپلزپارٹی میں شمولیت دوسری صورت میں متبادل پلیٹ فارم کے لیے جی ڈی اے سے بھی رابطے برقرارہیں ۔ شیرازی فیملی کے قریبی ذرائع نے روزنامہ نائنٹی ٹونیوز کوبتایا کہ ٹھٹھہ اورسجاول سے پیپلزپارٹی نے قومی اورصوبائی اسمبلی کی چارنشستیں دینے پرآمادگی ظاہرکی ہے معاملات طے پاگئے تو پیپلزپارٹی جوائن کرلیں گے وگرنہ جی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرسکتے ہیں ادھرجیکب آباد میں سابق صوبائی وزیرمیرہزارخان بجارانی کا خاندان بھی سیاسی طورپرتقسیم ہوگیا ہے پیپلزپارٹی سے مطلوبہ نشستیں نہ ملنے پرشبیربجارانی اورمحبوب بجارانی نے تحریک انصاف میں شمولیت کی دھمکی دے دی ہے۔

واضح رہے کہ بجارانی خاندان کے شبیربجارانی اورمحبوب بجارانی کے مطلوبہ نشستوں کے حصول کے معاملے پرآصف علی زرداری سے ملاقات سود مندثابت نہیں ہوسکی ہے جس کے باعث بجارانی خاندان نے متبادل آپش کے طورپرتحریک انصاف سے قربت بڑھانی شروع کردی ہے۔