میرے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی،مریم نواز

این اے125اوراین اے127کیلئے درخواستیں جمع کروا رہی ہوں،دونوں حلقوں سے کہاں سے الیکشن لڑنا ہے،ابھی فی الحال فیصلہ نہیں کیا گیا۔ مرکزی رہنماء ن لیگ مریم نواز کا ٹویٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ جون 16:46

میرے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی،مریم نواز
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 جون 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز نے کہا ہے کہ میرے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی،این اے 125اور این اے 127کیلئے درخواستیں جمع کروا رہی ہوں، الیکشن لڑنے کا ابھی فی الحال فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں اپنے ٹویٹ میں پارٹی کارکنان اور ووٹرز کو آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے 2انتخابی حلقوں این اے 125اور این اے 127سے کاغذات نامزدگی وصول کیے ہیں۔

جبکہ ان دونوں حلقوں کیلئے ٹکٹ لینے کیلئے درخواستیں جمع کروا رہی ہوں۔ تاہم این اے 125اور این اے 127سے میرے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی اور قیادت کو کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ این اے 125اور این اے 127دونوں نشستوں سے الیکشن لڑنے سے متعلق فی الحال ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔واضح رہے مریم نواز سے متعلق چہ مگوئیاں گردش کر رہی ہیں کہ وہ این اے 127سے الیکشن لڑیں گی بعض کارکنان کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے والد نوازشریف کے انتخابی حلقے این اے 120جوکہ اب 125ہے وہاں سے الیکشن کے میدان میں اتریں گی۔

(جاری ہے)

این اے 125میں ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کی رہنماء ڈاکٹر یاسمین راشد کوکھڑا کیا جارہا ہے۔دونوں جماعتوں کے امیدواروں میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔این اے 125سابق وزیراعظم نوازشریف کا انتخابی حلقہ ہے جبکہ بیگم کلثوم نواز کا آبائی حلقہ بھی ہے۔ نوازشریف کی پاناما کیس میں سپریم کورٹ میں نااہلی کے بعد این اے 120سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے الیکشن لڑا۔

انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھاری ووٹوں سے شکست دی۔تاہم بیگم کلثوم نوازکینسر کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث لندن میں زیرعلاج تھیں اور ان کی غیرموجودگی میں ان کی انتخابی مہم ان کی بیٹی مریم نواز نے چلائی ۔تاہم اب ایک بار پھر این اے 125میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔۔مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز کو اس حلقے میں الیکشن جیتنے کیلئے فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔دوسری جانب پنجاب میں اصل مقابلہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان ہوگا۔جبکہ پیپلزپارٹی پنجاب میں متحرک اور منظم دکھائی نہیں دے رہی ہے۔