تھرمل پاور سے پیداوار مہنگی اوربرامدات مشکل ہو جاتی ہیں، سستی زرعی و صنعتی پیداوار کے لئے نئے ڈیم بنائے جائیں، مرتضیٰ مغل

اتوار جون 18:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے نئے ڈیم بنائے بغیر پاکستان اور اسکی معیشت کا کوئی مستقبل نہیں۔صنعتی شعبہ کی بھاری اکثریت کا سب سے بڑا خرچہ توانائی کا بل ہوتا ہے جس میں کمی نہ ہو تو پیداوار مہنگی اوربرامدات مشکل ہو جاتی ہیں۔برامدات بڑھانے کیلئے حکومت کو بار بار مداخلت کرنا پڑتی ہے تاہم اسکے اعلان کردہ پیکجوں کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔

ملکی ترقی کیلئے سستی توانائی کا حصول ضروری ہے جو ڈیموں کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ جس ملک میں پیداواری لاگت زیادہ ہو وہاں کی برامدی صنعت لازماًمشکلات کا شکار ہوگی۔ایسے ملک میں ملکی و غیر ملکی بزنس مین سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں جس سے روزگار کے مواقع اور محاصل کی صورتحال پر منفی اثر پڑتا ہے۔

(جاری ہے)

محاصل نہ بڑھیں تو تجارتی خسارے اور قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پرانے قرضے اتارنے کیلئے نئے قرضے لینا پڑتے ہیں۔مہنگی بجلی سے زراعت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور عوام کو اشیائے خورد و نوش کی مہنگی قیمت برداشت کرنا پڑتی ہے۔۔ڈاکٹر مغل نے کہا کہ جس ملک کی توانائی کا چونسٹھ فیصد حصہ تھرمل پاور، ستائیس فیصد ہائیڈرو پاور اور سات فیصد جوہری توانائی پر مشتمل ہو وہاں مصنوعات سستی ہو سکتی ہیں نہ برامدات بڑھ سکتی ہیںاور نہ کرنسی مستحکم ہو سکتی ہے۔

دنیا کی دس بڑی کمپنیوں کو دیکھا جائے تو ان میں سے کوئی بھی ٹیکسٹائل کی نہیں بلکہ اکثریت ٹیکنالوجی کی کمپنیاں ہیں مگر اس میدان میں بھی پاکستان بہت پیچھے ہے کیونکہ سرکاری سطح پر ریسرچ ایند ڈویلپمنٹ کو توجہ نہیں دی جاتی جبکہ نجی شعبہ ترقی یافتہ ممالک کی مصنوعات کی نقل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔