لاہور، ماڈل ٹائون میں نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس

شہباز شریف نے پارٹی ٹکٹ کے حصول کیلئے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو باقاعدہ انٹرویو دیا ،سوالات کے جوابات دئیے نواز شریف ہی پارٹی کے قائد ہیں اور ہم سب پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں اور ٹکٹ کے حوالے سے پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی مجھے قبول ہوگا،شہبازشریف

اتوار جون 21:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے گزشتہ روز ماڈل ٹائون لاہور میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کو پارٹی ٹکٹ کے حصول کیلئے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو باقاعدہ انٹرویو دیا اس موقع پر پارلیمانی بورڈ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ان کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی کے حوالے سمیت دیگر سوالات کئے اور ان سے مستقبل کے بارے میں ان کے پلان کے بارے میں بھی پوچھا اس موقع پر شہباز شریف نے پارلیمانی بورڈ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ہی پارٹی کے قائد ہیں اور ہم سب پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں اور ٹکٹ کے حوالے سے پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی مجھے قبول ہوگاشہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے خون اور پسینے سے پارٹی کو سینچا ہے اور پورے پاکستان میں پارٹی کو متعارف کرایا ہے شہباز شریف نے پارلیمانی بورڈکو بتایا کہ انہوں نے نواز شریف کی اجازت سے سندھ میں جلسے کئے اور وہاں جا کر میں نے دیکھا تو وہاں کی عوام انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھی اور وہاں ترقی کا نام و نشان تک نظر نہیں آیا وہاں کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی تھیں جبکہ ہسپتالوں سمیت دیگر سہولیات کا بھی فقدان تھاشبہباز شریف نے کہا کہ وہاں کے عوام بر ملا کہتے ہیں کہ نواز شریف نے کراچی میں امن اور روشنیوں کوبحال کیا ہے ۔

(جاری ہے)

آ پ نے اور میں نے خیبر پختوانخواہ کے دورے بھی کئے ہیں وہاں کی صورتحال بھی آپ کے سامنے عیاں ہے اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے پارلیمانی بورڈ کے سامنے انٹر ویو کیلئے پیش ہو کر جمہوری روایات کی پاسداری کی ہے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا مجھے قبول ہوگا۔