جنوبی وزیرستان میں جلسوں پر پابندی عائدکردی گئی

چند عناصر کی جانب سے جلسے کے دوران متنازع، تعصبانہ، ریاست کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس سے جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے،نوٹیفیکیشن

اتوار جون 22:20

جنوبی وزیرستان میں جلسوں پر پابندی عائدکردی گئی
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) جنوبی وزیرستان کے ضلعی مجسٹریٹ نے قبائلی علاقے میں ایک ماہ کے لیے ضلعی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر جلسے جلوس اور ریلی نکالنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سہیل خان کی جانب سے 9 جون کو جاری ہونے والے حکم نامے کی کاپی موصول ہوئی ہے جس میں لکھا تھا کہ چند ریاست مخالف عناصر کی جانب سے علاقے میں جلسہ کرنے کی اطلاعات پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔

نوٹیفیکیشن میں بغیر کسی کا نام لیے کہا گیا تھا کہ چند عناصر کی جانب سے جلسے کے دوران متنازع، تعصبانہ، ریاست کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔

(جاری ہے)

اس میں مزید کہا گیا کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 144 اس طرح کے جلسے جلوس کو روکنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے۔

مجسٹریٹ نے تمام منعقدہ تقاریب اور ریلیوں کو ضلعی انتظامیہ کی اجازت سے مشروط کرتے ہوئے احکامات کا فوری اطلاق کردیا۔حکم نامے میں خبر دار کیا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص یا گروہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا تو اسے پاکستان پینل کوڈ کے دفعہ 188 کے تحت سزا دی جائے گی۔واضح رہے کہ یہ اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب شمالی وزیرستان کی انتظامیہ نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما پر عوامی امن کے مخالف کام کرنے پر علاقے میں داخلے پر 3 ماہ کی پابندی عائد کردی تھی۔

مقامی پولیٹیکل ایجنٹ نے نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ محسن داوڑ امن کے لیے قانون سے بالاتر کام کر رہے ہیں اور اپنی تقریروں کے ذریعے عوام میں ریاست مخالف جذبات پیدا کر رہے ہیں۔محسن داوڑ کے خلاف احکامات 7 جون کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے سیکشن 5 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ان احکامات کے بعد محسن داوڑ کے شمالی وزیرستان میں 3 ماہ تک داخلے پر پابندی کا فوری اطلاق ہوگیا تھا۔