فیصل آباد ،ْاخوت کے تحت ڈیڑھ ہزار ضرورت مند خاندانوں میں سود سے پاک 5کروڑ روپے کے قرضے تقسیم کر دیئے گئے

پیر جون 16:05

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) اخوت کے تحت ڈیڑھ ہزار ضرورت مند خاندانوں میں سود سے پاک 5کروڑ روپے کے قرضے تقسیم کر دیئے گئے۔ اس حوالے سے خصوصی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی جامع مسجد میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اقبال ظفر جبکہ مہمانان اعزاز میں اخوت کے سینئر نمائندے محمد جاوید‘ خالد محمود‘ ڈاکٹر عبدالرشید‘ ڈاکٹر نوید فرح اور ڈاکٹر خاالد محمود شوق شامل تھے۔

اس موقع پر قرض حسن حاصل کرنیوالوں سے اپنے خصوصی خطاب میں یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اقبال ظفرنے کہا کہ اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب اور ان کی ٹیم نے سود سے پاک مائیکروفنانسنگ کے کامیاب ماڈل کوپوری دنیا کیلئے مثال بناکر معاشی ماہرین کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے جو عالمی سطح پر ان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اچھی نیت‘ خلوص اور محنت سے کئے گئے کام میں اللہ تعالیٰ ضرور کامیابی اور برکت دیتا ہے ۔

انہوں نے اخوت کے پلیٹ فارم سے قرض حسن حاصل کرنے والوں پر زور دیا کہ اس رقم سے مکمل خلوص کے ساتھ اپنی تمام صلاحیتیں کام میں لاتے ہوئے محنت کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور کامیاب کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوت کے بندھن کا حصہ بننے والے اصل رقم کے ساتھ اپنی حیثیت کے مطابق جو عطیہ جمع کروا رہے ہیں وہ نئے ضرورت مندوں کے کا م آ رہا ہے اس طرح وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسرے ضرورت مندخاندانوں کی مددکیلئے بھی مواخات کا حصہ بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے کاروبار میں ترقی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اخوت کے مائیکروفنانس پروگرام سے آگاہ کریں تاکہ ان کی معاشی حالت میں بہتری کیلئے بھی ان کا مشورہ صدقہ جاریہ بن سکے۔ یونیورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر عبدالرشید نے کہا کہ اخوت ٹرسٹ کے ذریعے اخوت یونیورسٹی اور کلاتھ بینک بھی قائم کر دیئے گئے ہیں جس کیلئے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اخوت یونیورسٹی کیلئے کوئی بھی شخص ایک ہزار روپے کی ایک اینٹ خریدکر صدقہ جاریہ کا حقدار بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیوٹا سے تربیت حاصل کرنیوالوں کو گریجوایشن کے بعد ایک لاکھ روپے تک قرض دیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کوکاروباری ترقی کیلئے بروئے کار لاسکیں۔