لاہور ، سرکاری گھروں میں رہنے والوں کے خلاف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا ریکارڈ طلب

بدھ جون 20:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان نے غیر مجاز افراد کے وفاق اور پنجاب کے سرکاری گھروں میں رہنے والوں کے خلاف پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے غیر مجاز افراد کے سرکاری گھروں میں رہائش پذیر ہونے کے معاملے پر سماعت کی۔

(جاری ہے)

چیف سیکرٹری پنجاب نے بنچ کو آگاہ کیا کہ 62 افراد نے سول عدالتوں سے سرکاری گھروں میں قیام کے حق میں حکم امتناعی لے رکھا ہے جس پر بنچ کے سربراہ نے برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ سول ججز کو خیال ہی نہیں آرہا، مذاق بنایا ہوا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکم امتناعی لے کر پانچ سال تک بیٹھے رہتے ہیں اور مستحق لائن میں لگا رہتا ہے۔ کچھ نے تو سرکاری گھر کرائے پر دے رکھے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری سٹیٹ چلا رہے ہیں، کسی کو نہیں چھوڑنا۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں فل بنچ نے چیف سیکریٹری پنجاب سے بھی تفصیلات طلب کر لیں۔ اس معاملے پر مزید سماعت 19 جون کو ہوگی ۔