زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا وزارت داخلہ کا اقدام چیلنج کرنے کا فیصلہ

زلفی بخاری کچھ دیر میں اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچیں گے۔ میڈیا رپورٹس

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جون 13:31

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا وزارت داخلہ کا اقدام چیلنج ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جون 2018ء) : پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری نے اپنا نام بلیک لسٹ کیے جانے کا معاملہ عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ زلفی بخاری اپنا نام بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کا وزارت داخلہ کا اقدام اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔ زلفی بخاری کچھ دیر میں اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچیں گے جہاں وہ وزارت داخلہ کے اس اقدام کو چیلنج کریں گے۔

یاد رہےکہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہو رہے تھے،،عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری بھی ان کے ہمراہ تھے۔زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ہونے کی وجہ سے انہیں روک لیا گیا تھا۔لیکن تین گھنٹے کے بعد عمران خان کے طیارے کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

(جاری ہے)

اس معاملے پر نگران وزیر داخلہ اعظم خان کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں نہیں بلکہ بلیک لسٹ میں تھا ، زلفی بخاری کو 6 دن کی مہلت پر باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس اچانک کلئیرنس نے بہت سے سوالات کو جنم دیا اور عمران خان کے مخالفین لٹھ لے کر ان کے پیچھے چل پڑے اور میڈیا پر بیٹھے تجزیہ کاروں کو بحث کے لیے ایک نیا موضوع بھی مل گیا۔ یہ معاملہ مزید بڑھا تو زلفی بخاری نے خود بھی اس متعلق ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کیا اور سوال کیا کہ ایک برطانوی شہری جس نے کبھی کوئی پبلک آفس نہیں چلایا اور وہ برطانیہ میں باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہو۔

اور جس نے کبھی بھی پاکستان میں ایک روپے کا کاروبار نہ کیا ہو تو میں یہ جاننا چاہوں گا کہ پاکستان کے تجربہ کار صحافی یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں نیب کے سامنے جواب دہ ہوں۔
تاہم اب عمرے کی ادائیگی سے واپس آنے پر زلفی بخاری نے وزارت داخلہ کے اس اقدام کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔