پونے 6 ارب روپے کرپشن، ملزم کو وی آئی پی ٹریٹمنٹ پر سندھ ہائی کورٹ برہم

کرپشن کیس کے ملزم انعام اکبر کو جناح پوسٹ میڈیکل گریجویٹ اسپتال میں خصوصی ٹریٹمنٹ دی جارہی تھی

جمعرات جون 18:57

پونے 6 ارب روپے کرپشن، ملزم کو وی آئی پی ٹریٹمنٹ پر سندھ ہائی کورٹ برہم
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) محکمہ اطلاعات سندھ میں پونے 6 ارب روپے کرپشن ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزم کو وی آئی پی ٹریٹمنٹ دینے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق محکمہ اطلاعات سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن کیس کے ملزم انعام اکبر کو جناح پوسٹ میڈیکل گریجویٹ اسپتال میں خصوصی ٹریٹمنٹ دی جارہی تھی۔۔سندھ ہائی کورٹ کے جج نے بھاری کرپشن کے ملزم کے وی آئی پی علاج پر آئی جی جیل خانہ جات، جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹر سیمی جمالی کی سخت سرزنش کی۔

ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا نے کیس کی سماعت کے دوران غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر وی آئی پی قیدی جے پی ایم سی ہی کیوں جانا چاہتا ہی جسٹس آغا کا کہنا تھا کہ وی آئی پی قیدیوں کوعلاج کے بہانے اسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے، قانون سب کے لیے برابر ہے، کسی سے امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

(جاری ہے)

جیل حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزم انعام اکبر کو سینے میں تکلیف اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، علاج کے بعد انھیں واپس جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

عدالت نے انعام اکبر کی میڈیکل رپورٹس کے ساتھ حکام کا بیان حلفی طلب کرلیا، آئی جی جیل خانہ جات، جیل سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ ڈاکٹرز کو بھی بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔واضح رہے کہ محکمہ اطلاعات سندھ میں اشتہارات کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن کے سلسلے میں سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن سمیت گیارہ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔