عمرا ن خان نے رابطہ کیا یا نہیں؛ زلفی بخاری کے معاملے پر نگران وزیر داخلہ نے خاموشی توڑ دی

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے مجھے کسی نے فون نہیں کیا اور نہ ہی عمران خان سے رابطہ ہوا،زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست نیب نے کی،نگران وزیرداخلہ اعظم خان کی میڈیا سے گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 12:43

عمرا ن خان نے رابطہ کیا یا نہیں؛ زلفی بخاری کے معاملے پر نگران وزیر ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20جون 2018ء) :نگران وزیر داخلہ اعظم خان کا کہنا ہے کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے مجھے کسی نے فون نہیں کیا اور نہ ہی عمران خان سے رابطہ ہوا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا عمرہ ادائیگی پر جانا اس وقت ایک بڑی خبر بن گیا۔جب میڈیا پر یہ خبر سامنے آئی کہ عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ہونے کی وجہ سے عمران خان کا طیارہ ائیرپورٹ پر روک لیا گیا ہے۔

تاہم تین گھنٹے بعد زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا اور اس کے بعد عمران خان اپنی اہلیہ اور زلفی بخاری کے ساتھ سعودی عرب روانہ ہو گئے۔ جس کے بعد یہ کہا گیا کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لیے عمران خان نے نگران وزیر داخلہ کو فون کیا تاہم اب سے حوالے سے وزیر داخلہ اعظم خان کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔

(جاری ہے)

نگراں وزیر داخلہ اعظم خان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے مجھے کسی نے فون نہیں کیا اور نہ ہی عمران خان سے رابطہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کی جانب سے سیکرٹری داخلہ کو انڈرٹیکنگ بھیجی گئی جس میں عمرے کی ادائیگی کے لیے ایک ماہ کی اجازت مانگی گئی تھی۔ سیکرٹری داخلہ نے مجھے ایک ماہ کی درخواست دی تاہم میں نے 6 دن کی اجازت دی۔ نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست نیب نے کی جب کہ وزارت داخلہ نے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا، کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنا طویل مرحلہ ہے اور کابینہ سے منظوری لینا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں بہت ساری رپورٹس غلط آئیں ۔