حکومت ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو کامیاب بنانے کیلئے اعلیٰ سطح پر بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،ریجنل ٹیکس کمشنر

جمعرات جون 14:44

حکومت ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو کامیاب بنانے کیلئے اعلیٰ سطح پر بھر پور ..
فیصل آباد۔21 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ریجنل ٹیکس کمشنر فیصل آباد محمد طارق چوہدری نے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم وفاقی حکومت کا بہت بڑا اور اہم قدم ہے جس کو کامیاب بنانے کیلئے اعلیٰ سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں شہر بھر کی صنعتی ، تجارتی اور کاروباری تنظیموں کے عہدیداروں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں اس سکیم کے بارے میں بعض غلط فہمیاں تھیں جبکہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس سکیم کا از سر نو جائزہ لینے کی اطلاعات نے بھی اس کے مستقبل بارے خدشات پیدا کر دیئے تھے تاہم اب تمام خدشات دور ہو گئے ہیں اور اس سکیم بارے اعلیٰ سطح پر آگاہی دینے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین طارق محمو دپاشا 23 جون کو فیصل آباد آرہے ہیں تا کہ اس کے بارے میں صنعتی اور کاروباری برادری کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے تاجروں کے نمائندوں سے کہا کہ وہ اس سکیم کے حوالے سے اپنے خدشات کو تحریری شکل دے لیں تا کہ چیئرمین ایف بی آر سے ان کی ملاقات کو حقیقی معنوں میں موثر اور با مقصد بنایا جا سکے۔ چوہدری محمد طارق نے کہا کہ ٹیکس بہت وسیع موضوع ہے اور اس کے بارے میں لوگوںکے خدشات بھی بے شمار ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے زیادہ تر خدشات ٹیکس کلچر کے بارے میں ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ قوموں کے ثقافتی رویوں کو فوری طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ حقیقت ہے کہ حکومت اس سلسلہ میں بہتری لانے کیلئے سنجیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے افراط زر کو کافی حد تک کنٹرول کرکے رکھا ہوا تھا لیکن حالیہ مہینوں میں درآمدات و برآمدات کے غیر معمولی فرق کے بعداب آئی ایم ایف کے پاس جانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت بہت پیچیدہ نظام ہے جبکہ روپے کی قدر میں کمی کی صورت میں ٹیکسیشن کو بڑھانا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ اگر اس وقت ہمیں 4ٹریلین درکار ہیں تو پھر ہمیں 6 ٹریلین درکار ہونگے اور اس کیلئے یقینا تاجر اور صنعتکار برادری کو مزید ٹیکس دینا ہوگا جس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔

انہوں نے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں حکومت نے انتہائی سخت اقداما ت اٹھائے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پرنان فائلر کے پلاٹ اور گاڑیاںخریدنے پر پابندی کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ٹیکس نیٹ میں آنے سے حکومتی محاصل اور ٹیکس نیٹ میں بھی اضافہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے حضرت علیؓ کا ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے مصر کے گورنر کو ٹیکسیشن بارے خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹیکس کی شرح اتنی ہونی چاہیئے کہ اس سے کاروبار کی شرح نمو متاثر نہ ہو کیونکہ جب ان کا کاروبار بڑھے گا تو اس سے ٹیکس میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے تاجروں سے کہا کہ وہ چیئرمین ایف بی آر کے اجلاس میں لازمی شرکت کریں اور اس میں اپنے خدشات کا برملا اظہار کریں تا کہ ان کی اعلیٰ سطح پر وضاحت ہو سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے کہا کہ ٹیکس ملکی معیشت کا لازمہ ہیں لیکن حکومت اور ٹیکس دہندگان میں بد اعتمادی کی وجہ سے لوگ ٹیکس دینے سے اجتناب کرتے ہیں۔

اس سلسلہ میں سوال و جواب کی بھی طویل نشست ہوئی جس میں سیکرٹری جنرل عابد مسعود ، چوہدری محمد نواز، رانا سکندر اعظم ، ایم اے خواجہ، ایوب صابر ، طلعت محمود، نصیر وہرہ اور شیخ عبدالقیوم نے حصہ لیا۔ آخر میں پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایم اے خواجہ نے ریجنل کمشنراِن لینڈ ریونیو چوہدری محمد طارق کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی اعزازی شیلڈ پیش کہ جبکہ نائب صدر عثمان رؤف نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔