سرگودھا کی نجی رہائشی سکیموں کے ذریعے لوٹ مار کی تحقیقات شروع کر دی گئی

سرگودھا ریجن کے چاروں اضلاع میں دو سو سے زائد ہائوسنگ سکیموں کوغیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی مانٹرننگ کی جا رہی ہے

جمعہ جون 12:48

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سرگودھا کی نجی رہائشی سکیموں کے ذریعے لوٹ مار کی تحقیقات شروع کر دی گئی، جن میں ممبران اسمبلی اور بیورو کریسی کے ملوث ہونے کے بارے چھان بین کا دائرہ کار وسیع کر تے ہوئے ہائوسنگ سکیموں کے مالکان اور ڈویلپرز کے اثاثہ جات کی بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق سرگودھا ریجن کے چاروں اضلاع میں دو سو سے زائد ہائوسنگ سکیموں کوغیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی مانٹرننگ کی جا رہی ہے ،جن میں میونسپل کارپوریشن اور دیگر بلدیاتی اداروں کی ملی بھگت سے نہ صرف ترقیاتی کام مکمل کئے گے بلکہ اس میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

ان سکیموں میں بنیادی اور پرکشش سہولیات کے نام پر لوگوں کو لوٹا گیا،ایسے حالات میں قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی اور مطلوبہ معیار پور ا نہ ہونے سے ان ہائوسنگ سکیموں کے بڑھتے ہوئے مسائل مکینوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کیلئے باعث بھی لمحہ فکریہ ہیں، کئی بار ایسی ہائوسنگ سکیموں کے خلاف کاروائی کی کوشش کی گئی تو سیاسی مداخلت آڑے آتی رہی ، یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس وقت سرگودھا میں 90فیصد ہائوسنگ سکیموں کے مالکان میں سیاسی شخصیات ملوث ہیں اور ارکان اسمبلی کے بھی ان میں حصیہیں، اس سلسلہ میں آئندہ ہفتے اعلی ادارے کی ایک ٹیم سرگودھا آئے گی ، معلوم ہوا ہے کہ ڈویڑنل اور ضلعی افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ ترجیح بنیادوں پر ہائوسنگ سکیموں کے مالکان اور ڈویلپرز اور سیاسی شخصیات کے اثاثہ جات کی تفصیلات جلد از جلد بجھوائی جائیں۔

(جاری ہے)

جس کے بعد کئی اداروں نے اس پر کام شروع کر کے چھان بین کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔