تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹ کے عوض پیسے لینے کا انکشاف

5کروڑ روپے کا ٹکٹ خریدنے والا جانتے ہیں امید وار کون نکلا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 13:23

تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹ کے عوض پیسے لینے کا انکشاف
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 جون 2018ء) : عام انتخابات کی آمد کے پیش نظر جہاں سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی حکمت عملی مرتب کرنا شروع کر دی ہے وہیں سیاسی جماعتوں کی جانب سے ٹکٹس کی تقسیم اور انتخابی اُمیدواروں کی فہرستیں مرتب کرنے کا عمل بھی زور و شور سے جاری ہے۔ حال ہی میں انکشاف ہوا تھا کہ مسلم لیگ ن نے پارٹی فنڈ کی مد میں ٹکٹس کے عوض اُمیدواروں سے بھاری رقوم بٹوری ہیں تاہم اب یہی انکشاف پاکستان تحریک انصاف سے متعلق بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پی پی 59 سے عارف جٹ کو پارٹی ٹکٹ 5 کروڑ روپے میں دیا ہے۔

قومی اخبار کے مطابق ملک کے خفیہ اداروں نے عارف حسین جٹ کی منی ٹریل کا سراغ لگا لیا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عارف حسین جٹ کو ٹکٹ جا ری کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔

(جاری ہے)

پی پی 59 سے عارف حسین جٹ کو ٹکٹ دینے یا نہ دینے سے متعلق حتمی فیصلہ دو روز تک متوقع ہے۔ عارف حسین جٹ کی جانب سے کروڑوں روپے کے عوض پارٹی ٹکٹ خریدے جانے کے انکشاف کے بعد خفیہ اداروں نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹوں کے حصول کے لیے پیسوں کے استعمال پر تحقیقات کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا ہے ۔

کچھ با خبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پی پی 59 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ حا صل کرنے کے لیے عارف حسین جٹ نے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما علیم خان کے دست راست کو 5 کروڑ روپے کی رقم ادا کی ہے جس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے عارف حسین جٹ کو ٹکٹ جا ری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خفیہ ادارے نے عارف حسین جٹ کی منی ٹریل کا سُراغ بھی لگا لیا ہے۔

عارف حسین جٹ کی منی ٹریل کا سُراغ لگنے پر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماء بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں، جس کے بعد عارف حسین جٹ کو ٹکٹ جاری کرنے کے فیصلے پرنظر ثانی کی جائے گی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے عارف حسین جٹ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے متوالے تھے۔ یہی نہیں عارف حسین جٹ کو ن لیگ کے سرمایہ کار کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔

ٹکٹ خریدنے کے لیے رقم دینے سے متعلق پی پی 59 کے اُمیدوار عارف حسین جٹ نے تردید کی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ ٹکٹ کے حصول کے لیے رقم دینے سے متعلق تمام تر خبریں بے بنیاد اور پراپیگنڈہ پر مبنی ہیں۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں ہی پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی کارکن پارٹی ٹکٹ دلوانے کے عوض پیسوں کا تقاضا کرے یا آپ کے علم میں کوئی ایسا اُمیدوار ہو جو ٹکٹ کے حصول کے لیے پیسے کی پیشکش کرتا ہو تو 5375113-0303 پر اس کی اطلاع دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹکٹوں کا حتمی فیصلہ میں خود کروں گا۔
عمران خان کے اس فیصلے کو سوشل میڈیا صارفین نے خوب سراہا۔ٹکٹ کی منصفانہ اور میرٹ پر تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے کارکنوں اور اُمیدواروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ کسی قسم کے پیسوں کے تقاضے سے متعلق فوری طور پر دئے گئے نمبر پر رابطہ کریں۔

خیال رہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کا منشور ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے۔ اور اسی لیے ماضی میں بھی پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے والے پارٹی کے 20ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔ 20 رہنماؤں کو پارٹی سے نکالنے اور اپنی جماعت میں ہی احتساب کرنے پر عمران خان نے خوب داد سمیٹی تھی۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سیاسی جماعتوں میں ٹکٹس خریدنا ایک عام بات ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن میں ٹکٹس کی تقسیم کے معاملے میں پارٹی فنڈز کی مد میں بھاری رقم وصول کرنے کا انکشاف ہوا ۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق دور حکومت میں اہم ترین حکومتی عہدوں پر رہنے والے لیگی رہنماؤں اور متعدد ذمہ داران نے اپنے حلقوں کی بجائے آسان حلقوں میں الیکشن لڑنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

جس کی وجہ سے ن لیگ کے اندر چار دھڑے بن چکے ہیں ۔ ان چار دھڑوں میں ایک چودھری نثارکا ، دوسرا حمزہ شہباز کا، تیسرا مریم کا اور چوتھا دھڑا شاہد خاقان کا ہے ۔جہاں مسلم ن لیگ کے اندر دھڑے بندی مزید تیز ہو چکی ہے وہیں مریم نواز کے میڈیا سیل اور اہم ترین لیگی رہنماؤں کے قریبی ساتھیوں نے بھی ٹکٹیں دلوانے کے لیے پارٹی فنڈز کے نام پر کروڑوں کی رشوتیں لینا شروع کر دی ہیں ۔ اس حوالے سے اب تک 35 سے زائد کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں لاہور کے ایک یونین کونسل کے چئیرمین سے مریم نواز کے میڈیا سیل سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن نے 5 کروڑ روپے ٹکٹ دلوانے کے عو ض لئے ۔ اسی طرح حمزہ کے قریبی ساتھی پر لاہور کے ایک بڑے تاجر سے ٹکٹ دلوانے کے لیے کروڑوں روپے لینے کا الزام ہے ۔