قائمہ کمیٹی نے فاٹا عوام کو رعایتی قرضے ،انفراسٹرکچرکی ترقی کیلئے خصوصی فنڈزدینے کی سفارش کر دی

فاٹا میں بھی 22خاندان وسائل پر قابض ہیں، ٹیکس رعایتوں کو ویلیو انڈیشن، روزگار سے مشروط کیا جائے،سینیٹر محسن عزیز علاقے میں حالات پھر سے خراب ہو رہے ہیں،اگرفاٹا میںایک بار احتجاج شروع ہوگیا تو اسے کوئی نہیں روک سکے گا،ای سی سی نے فاٹا، پاٹا میں 5سال کیلئے ٹیکس رعایتوں کی منطوری دی لیکن ایف بی آر نے ایس آر اوز جاری نہیں کیے،سینیٹر فدا محمد، کمیٹی نے میجر(ر) غلام عباس کی تمام پنشنرز کو ٹیکس سے استثنا دینے کی درخواست مسترد کر دی

جمعہ جون 14:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فاٹا کے عوام کو رعایتی قرضے ،انفراسٹرکچرکی ترقی کیلئے خصوصی فنڈزدینے کی سفارش کر دی، سینیٹر محسن عزیز نے کہا ہے کہ فاٹا میں بھی 22خاندان وسائل پر قابض ہیں، فاٹا میں ٹیکس رعایتوں کو ویلیو انڈیشن، روزگار سے مشروط کیا جائے،سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ فاٹامیں حالات پھر سے خراب ہو رہے ہیں،اگرفاٹا میںایک بار احتجاج شروع ہوگیا تو اسے کوئی نہیں روک سکے گا،ای سی سی نے فاٹا،، پاٹا میں 5سال کیلئے ٹیکس رعایتوں کی منطوری دی لیکن ایف بی آر نے ایس آر اوز جاری نہیں کیے،،کمیٹی نے میجر(ر) غلام عباس کی تمام پنشنرز کو ٹیکس سے استثنا دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

جمعہ کو سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، آمدن اور معاشی معاملات سے متعلق اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں سینیٹر دلاور خان، سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر محسن عزیر، سینیٹر شیخ عتیق ،سینیٹر فدا محمد، ایف بی آر،، اور دیگر محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ سیکریٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کی اجلاس سے غیر حاضری پر ارکان نے اظہار برہمی کرتے ہوئے انہیں آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

کمیٹی میں میجر(ر) غلام عباس کی پنشنرز کو ٹیکس سے استثنا دینے کی درخواست زیر غور آئی۔ اس پر ایف بی آر کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال ہے جبکہ اس عمر میں بھی آدمی کام کاج کرنے کے قابل ہوتا ہے اور اپنا کاروبار بھی کر سکتا ہے اس لیے پنشنرز کو ٹیکس سے مکمل استثنا دینا ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس پر کمیٹی نے تمام پنشنرز کو ٹیکس سے استثنا دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

فاٹا ، پاٹا اور مالاکنڈ ڈویزن میں ٹیکس ریلیف کے معاملے پر ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نئی قانون سازی کے بعد فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس قوانین کا اطلاق ہو گیا ہے۔نئے قوانین کے تحت کسی کو ٹیکس استثنا حاصل نہیں ہے۔ای سی سی اگرمنظوری دے تو ٹیکس استثنافاٹا ، پاٹا کے عوام کو دیا جا سکتا ہے۔ای سی سی کے فیصلے کے تحت پرانے یونٹس کو 5سال تک ٹیکس استثنا ملتا رہے گا۔

نئے صنعتی یونٹس کیلئے ای سی سی سے ٹیکس استثنا لینا لازمی ہے۔قانونی طور پر فاٹا ور پاٹا پاکستان کا حصہ ہیں لیکن آئین کے آرٹیکل 247کے تحت وہاں پر پاکستان کے وفاقی اور صوبائی قوانین لاگو نہیں ہوتے تھے۔ اب پارلیمنٹ نے آرٹیکل 247کو ختم کر دیا ہے۔ اس پر سینیٹر اورنگزیب خان نے کہا کہ فاٹا کے لوگ غربت سے مر رہے ہیں۔۔فاٹا کے عوام کے معاشی حالات خراب ہیں، اور وفاقی حکومت وہاں پر ٹیکس لگا رہی ہے۔

سینیٹ خزانہ کمیٹی حقیقت جاننے کیلئے فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کا دورہ کرے۔اس پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ فاٹا میں بھی 22خاندان وہاں کے وسائل پر قابض ہیں۔۔فاٹا میں عوام کو روزگار دیکر وسائل ذیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہوں گے۔ بعض گروپس فاٹا میں عوام کے نام پر ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کمیٹی نے فاٹا کے عوام کو رعایتی قرضے دینے کی سفارش کر دی۔

کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ فاٹا میں انفراسٹرکچرکی ترقی کیلئے خصوصی فنڈز دیے جائیں۔سینیٹر فدا محمد نے کمیٹی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فاٹامیں حالات پھر سے خراب ہو رہے ہیںاس بار پہلے سے بھی زیادہ آئی ڈی پیز باہر نکلیں گے۔اگر ایک بار شروع ہو گیا تو فاٹا میں احتجاج کوئی نہیں روک سکے گا۔ ای سی سی نے فاٹا،، پاٹا میں 5سال کیلئے ٹیکس رعایتوں کی منطوری دی۔

ابی تک ایف بی آر نے ٹیکس رعایتوں کے ایس آر اوز جاری نہیں کیے۔۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے فا ٹا میں ٹیکس رعایتوں کو مشروط کرنے کی تجویز دیدی۔ محسن عزیز نے کہا کہ فاٹا میں ٹیکس رعایتوں کو ویلیو انڈیشن، روزگار سے مشروط کیا جائے۔۔فاٹا کی بات ہو تو ویلیو انڈیشن اور روزگار کی بات ہو۔ فاٹا میں انڈسٹری لگانے کیلئے رعایتی قرضے دیے جائیں۔

فاٹا کی عوام سے بہت وعدے کیے گئے لیکن وہاں کی عوام کو کچھ نہیں ملا۔10سال وہاں ضرب عضب آپریشن جاری رہا جس کے نتیجے میں وہاں کا انفرا سٹرکچر تباہ ہوگیا ہے۔۔فاٹا کے ساتھ چند لوگوں نے کھیلا ہے۔ اس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 247ختم ہونے کے بعد فاٹا میںملکی قوانین کا نفاذ ہوگیا ہے۔بحث آئندہ اجلاس تک موخر کر دی گئی۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 29جون کو ہوگا