اللہ تعالیٰ کے کرم اور حلقے کے عوام کے تعاون سے 1985 ء سے الیکشن جیتتا آرہا ہوں‘ نثار

مجھے ہرانے کیلئے مشرف نے میرے حلقے کو توڑا ‘ اس دفعہ الیکشن میں بھاری ووٹوں سے جیتوں گا،ونوں ن لیگی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرائوں گا چوہدری سرور نے ہمیشہ سیاسی جماعتوں سے فائدہ اٹھایا‘ الیکشن مہم انتخابات کے وقت نہیں ہوتی، لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں نواز سریف کے ساتھ اختلاف کس نوعیت کے تھے، نجی ٹی وی کو انٹرویو

جمعہ جون 23:16

اللہ تعالیٰ کے کرم اور حلقے کے عوام کے تعاون سے 1985 ء سے الیکشن جیتتا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کرم اور حلقے کے عوام کے تعاون سے 1985 ء سے الیکشن جیتتا ہوا آرہا ہوں‘ مجھے ہرانے کیلئے مشرف نے میرے حلقے کو توڑا ‘ اس دفعہ الیکشن میں بھاری ووٹوں سے جیتوں گا۔ یہ بات ریکارڈ پر رکھنا اگر میں ان دو حلقوں سے جیتا یا نہ جیتا دونوں ن لیگی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرائوں گا۔

چوہدری سرور نے ہمیشہ سیاسی جماعتوں سے فائدہ اٹھایا‘ الیکشن کمپیئن انتخابات کے وقت نہیں ہوتی۔ لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ میاں نواز سریف کے ساتھ اختلاف کس نوعیت کے تھے۔ گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اللہ کے کرم اور اپنے حلقہ کے عوام کی سپورٹ سے 1985 ء سے الیکشن جیتا ہوا آرہا ہوں مجھے ہرانے کیلئے 2009 ء میں مشرف دور میں اس حلقے کو توڑا گیا تاکہ میں الیکشن ہار جائوں گا۔

(جاری ہے)

پہلا مرا حلقہ تقسیم تھا لیکن اب نئی حلقہ بندیوں سے یہ ایک ہوا ہے جس کا مجھے فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر رکھنا کہ اگر میں ان دو حلقوں سے جیتا یا نہ جیتا دونوں ن لیگی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرائوں گا جس دن الیکشن کے نتائج آرہے ہوں اس دن میری بات بھی چلانا اور ان دونوں امیدواروں کے نتائج بھی دیکھ لینا۔ انہوں نے مزید کہاکہ الیکشن میں کمی کو کمزور نہیں سمجھتا چوہدری سرور نے میرے ساتھ سیاست کی انہوں نے ہمیشہ پارٹی سے فائدہ اٹھایا ہے۔

اب بھی انہیں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک سے فائدہ ہوگا۔ میرا اور چوہدری سرور کا سخت مقابلہ ہوگا۔ اگر مجھے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ ملتا تو بڑی آسانی سے اپنے حلقوں سے جیت جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمپیئن الیکشن کے وقت نہیں ہوتی۔ پانچ سال سے ایک نیٹ ورک کے ذریعے اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ رابطے میں رہتا ہوں اور یہ سلسلہ سن 85 ء سے چلتا ہوا آرہا ہے۔

اب یہ میرا پروگرام ہے کہ نیٹ ورک کو مزید وسعت دوں اور کچھ خاص لوگوں کو خاص علاقے کی ذمہ داری دوں کہ وہ وہاں کمپین چلائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو بتانا چاہتاہوں کہ میرے اور میاں نواز شریف کے درمیان اختلافات کس نوعیت کے تھے۔ نواز شریف سے ذاتی اور سیاسی طور پر تعلقات تھے اس حوالے سے اختلافات کی وضاحت کرنی تھی لیکن بیگم کلثوم نواز کی صحت ٹھیک نہیں ہے اس وجہ سے بات نہیں کر سکا۔ ہماری اقدار روایات ہمیں اس چیز سے روکتے ہین کہ کسی کے ذاتیات پر حلہ نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی اسمبلی کیلئے میرے پاس کئی امیدواروں ہیں جو الیکشن لرنے کی اہلیت رکھتے ہین ان سب کو برابری کی بنیاد پر ٹکٹ نہیں مل سکتا تاکہ سپورٹر تقسیم نہ ہوجائیں۔