این اے 243: عمران خان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل مسترد

این اے 95 میانوالی سے چیئرمین پی ٹی آئی کے کاغذات مسترد کرنے پر آر او کو نوٹس جاری عمران خان کے کاغذات نامزدگی اہلیہ کی جائیداد اور زیورات ظاہر نہ کرنے پر مسترد ہوئے ،ْبابر اعوان

ہفتہ جون 13:44

این اے 243: عمران خان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل مسترد
کراچی/اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) اپیلٹ ٹریبونل نے این اے 243 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل مسترد کردی ،ْاین اے 95 میانوالی سے چیئرمین پی ٹی آئی کے کاغذات مسترد کرنے پر آر او کو نوٹس جاری کردیا گیا۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے عام انتخابات کیلئے اسلام آباد، لاہور،، میانوالی اور کراچی سے کاغذات جمع کرائے جن پر اعتراضات دائر کیے گئے ،ْکراچی کے حلقہ این اے 243 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے وہاب بلوچ نے اعتراضات دائر کیے تھے۔

ریٹرننگ افسر نے اعتراض کنندہ کے اعتراض مسترد کرتے ہوئے عمران خان کے کاغذات منظور کیے تھے جس پر اعتراض کنندہ نے آر او کا فیصلہ اپیلٹ ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا۔

(جاری ہے)

اپیلٹ ٹربیونل نے بھی آر او کا چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل کو مسترد کردیا ہے۔دوسری جانب قومی اسمبلی کے حلقے این اے 95 میانوالی سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کے اپیلٹ ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ،ْریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف عمران خان کی اپیل پر اپیلٹ ٹریبونل کے جسٹس فیصل زمان خان نے سماعت کی۔

عمران خان کی جانب سے بابر اعوان ٹریبونل میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس بروقت بیان حلفی جمع نہ کرانے کا الزام لگا کر کاغذات مسترد کیے گئے ،ْاپیل میں استدعا کی گئی کہ ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔۔سماعت کے بعد عدالت نے ریٹرننگ افسر اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت پیر (25 جون) تک کیلئے ملتوی کردی۔۔عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل بابر اعوان نے بتایا کہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی اہلیہ کی جائیداد اور زیورات ظاہر نہ کرنے پر مسترد ہوئے۔۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ تکنیکی بنیادوں پر کسی کو الیکشن لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا۔