شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت‘خواجہ حارث کے دلائل

نیب کا اسحاق ڈار‘حسن اور حسین نوازکو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کا فیصلہ شریف خاندان کے نام ای سی ایل پرڈالنے کافیصلہ کابینہ کرےگی۔نگراں وزیرداخلہ اعظم خان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 14:15

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت‘خواجہ حارث کے دلائل
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 جون۔2018ء) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث حتمی دلائل دے رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے چھٹے روز بھی دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔

نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز گزشتہ سماعت پر 3 روز کے لیے حاضری سے استثنیٰ لے چکے ہیں۔۔سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ حارث بہت زیادہ وقت لے رہے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں جلد حتمی دلائل مکمل کر لوں گا۔۔سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ واجد ضیا کا بیان ہے لندن فلیٹس شریف خاندان کے ہیں۔

(جاری ہے)

تفتیشی افسر کہتا ہے نواز شریف بے نامی دار اور اصل مالک ہیں۔گزشتہ سماعت پر خواجہ حارث نے کہا تھا کہ تفتیشی افسر کی رائے قابل قبول شہادت نہیں ہے، قطری کے 2 خطوط کا نواز شریف سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 2 خطوط میں تضادات کی بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ خطوط میں تضادات کا بتانا جے آئی ٹی کا کام نہیں عدالت کا تھا، واجد ضیا یہ خط تو پیش کر سکتے تھے مگر کمنٹس نہیں کر سکتے تھے۔

دوسری جانب نجی ٹی وی ذرائع کے حوالے دعوی کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے مختلف مقدمات میں مطلوب اسحاق ڈار،، حسن اور حسین نواز کو انٹر پول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو انٹر پول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق لندن میں موجود حسن اور حسین نواز ایون فیلڈ سمیت تین ریفرنسز میں شریک ملزم ہیں جبکہ اسحاق ڈار پر آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔نیب اس حوالے سے متعلقہ فورم پر تینوں ملزمان کی وطن حوالگی کے لیے درخواست جمع کرائے گا درخواست میں ملزمان کے خلاف دستاویزی ثبوت بھی فراہم کیے جائیں گے۔۔اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ اعظم خان نے کہا ہے کہ شریف خاندان،دیگر افرادکے نام ای سی ایل پرڈالنے کافیصلہ کابینہ کرےگی۔

نگراں وفاقی وزیرداخلہ اعظم خان نے کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی اس معاملے پراجلاس کرے گی جس میں سفارشات تیارکرکے کابینہ کوبھیجوائی جائیں گی۔۔وزیرداخلہ اعظم خان نے کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی ایک رکن بیرون ملک ہیں،اجلاس جلدہوگا۔انہوں نے کہا کہ کسی کوانٹرپول کے ذریعے لانے یانہ لانے کااختیاربھی وزارت داخلہ کے پاس ہے۔