آر ڈی اے غیر قانونی ھائوسنگ اسکیموں کے خلاف ا ن ایکشن، ھائوسنگ سکمیوں کے ’’لے آئوٹ پلان ‘‘ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی تیاریاں مکمل

منگل جون 20:24

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) راولپنڈی کے ترقیاتی ادارے آر ڈی اے نے این او سی کی حامل تمام منظورشدہ ھائوسنگ سکمیوں کا ’’لے آئوٹ پلان ‘‘ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ۔ ڈائریکٹر آر ڈی اے جمشید آفتاب نے اے پی پی کو بتایاکہ راولپنڈی کی حدود میں واقع تمام ھائوسنگ سکمیوں کے موجودہ سٹیٹس کو اپ ڈیٹ کر کے تمام قانونی و غیر قانونی سکیموں کی تفصیلات آر ڈی اے کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں جبکہ شہریوں کو جعلسازی سے بچانے کے لیے تمام منظور شدہ ھائوسنگ اسکیموں کے لے مکمل آئوٹ پلان کو بھی بہت جلد ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیاجائے گا جس کے بعد شہری سرمایہ کاری کرتے وقت آسانی سے سوسائٹی کے تمام منظور شدہ لے آئوٹ پلان کا مشاہدہ کر سکیں گے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ اس طرح کوئی رہائشی سکیم لے آئوٹ پلان میں کسی بھی طرح من مانی ترمیم نہیں کر سکے گی اور عوامی مقاصد کے لیے مختص پلاٹس صرف اور صرف انہی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکیں گے ۔دوسری جانب آر ڈی اے نے راولپنڈی پولیس ،سٹیٹ بنک ،ڈی جی پیمرا سمیت دیگر متلعقہ اداروں کو پہلے ہی خطوط لکھ دیئے ہیں ۔ڈائریکٹر آر ڈی اے جمشید آفتاب نے اے پی پی کو بتایاکہ ڈائریکٹر جنرل آر ڈی اے رانا اکبر حیات کی خصوصی ہدایات پر راولپنڈی میں خلاف ضابطہ اور غیر قانونی نجی رہائشی اسکیموں کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ عوام النا س کو بوگس و جعلی رہائشی اسکیموں کے فراڈ سے بچایا جا سکے ۔

ڈائریکٹر آر ڈی اے جمشید آفتاب نے قومی خبر رساں ایجنسی کو بتایاکہ آر ڈی اے نے قبل ازیں سی پی او راولپنڈی کو بھی باقاعدہ خط لکھ کر جعلی ،غیر قانونی اور نامنظور ھائوسنگ سوسائٹیز کے بکنگ دفاتر کے خلاف کارروائی کی اپیل کررکھی ہے اور ایسی رہائشی اسکیموں کے خلاف دھوکہ دہی اور فراڈ کے مقدمات کے اندراج کی درخواست کی گئی تھی جس پر پیش رفت کی جائے گی ۔

انہوں نے اے پی پی کو بتایاکہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کو بھی ایک خط کے ذریعے جعلی ھائوسنگ اسکمیز کے مالکان ور سہولت کاروں کے اکائونٹس نہ کھولنے کی درخواست کی گئی تھی ۔انہوں نے بتایاکہ اس ضمن میں غیر قانونی رہائشی اسکیموں کی پرکشش اشتہاری مہمات کی جانچ پڑتال کے لیے ڈی جی پیمرا سے بھی مدد طلب مانگی گئی جبکہ بجلی ،،پانی اور گیس کی فراہمی کے ذمہ دار اداروں کو بھی خطوط ارسال کیے گئے جن میں ان سے درخواست کی گئی کہ آر ڈی اے سے غیر منظور شدہ کسی بھی ھائوسنگ سوسائٹی کو یوٹیلیٹی سروسز نہ دی جائیں۔