ایون فیلڈ ریفرنس: خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کی کارکردگی پر اعتراضات کے انبار لگادیئے

تفتیشی ایجنسی نے شفاف تحقیق نہیں کی اگر کہیں ملزمان کو فائدہ ہوسکتا تھا تو اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا ، قطری خطوط اور ٹرانز کش میں ربط موجود ہے، خواجہ حارث جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ واجد ضیاء نے کہاں کہاں جھوٹ بولا قطری کو لکھے گئے تیسرے خط میں پہلی بار تفتیش کا ذکر کیا گیا ، واجد ضیاء نے اس بات کو قانون کا سوال بنا دیا کہ قطری کا بیان انکے محل میں ریکارڈ کیا جاسکتا ہے ، قطری کا بیان اس لئے قلمبند نہیں کیا گیا کہ کہیں وہ انکے حق میں بیان نہ دیدے، نواز شریف کے وکیل نے دلائل مکمل کرلئے

بدھ جون 22:19

ایون فیلڈ ریفرنس: خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کی کارکردگی پر اعتراضات کے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کرلیے، انہوں نے جے آئی ٹی کی کارکردگی پر اعتراضات کے انبار لگادئیے۔ انہوں نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ قطری ایک شہزادہ ہے جے آئی ٹی کے سربراہ اسکے ساتھ منشیوں کی طرح ڈیل کررہے تھے ۔

تفتیشی ایجنسی نے شفاف تحقیق نہیں کی اگر کہیں ملزمان کو فائدہ ہوسکتا تھا تو اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا ، قطری خطوط اور ٹرانز کش میں ربط موجود ہے ، جے آٰئی ٹی نے قطری شہزادے کو جو خط لکھے ان میں کہیں بھی متعلقہ ریکارڈ کی وضاحت نہیں کی گئی ۔ قطری کو پہلا خط 13مئی 2017کو لکھا گیا جس کا جواب 24مئی کو دیا گیا ۔ 24مئی کوقطری کا جواب آرہا تھا اور جے آئی ٹی نے اس تاریخ کو دوسرا خط لکھا ، قطری شہزادے نے اپنے پہلے دو خطوط کے متن کی تعریف تصدیق کی، قطری نے یہ نہیں کیا کہ وہ بیان ریکارڈ نہیں کروانا چاہتے ، شہزادے نے یہ کہا کہ آپ آجائیں میں نہیں آسکتا ، جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ واجد ضیاء نے کہاں کہاں جھوٹ بولا قطری کو لکھے گئے تیسرے خط میں پہلی بار تفتیش کا ذکر کیا گیا ، واجد ضیاء نے اس بات کو قانون کا سوال بنا دیا کہ قطری کا بیان انکے محل میں ریکارڈ کیا جاسکتا ہے ، قطری کا بیان اس لئے قلمبند نہیں کیا گیا کہ کہیں وہ انکے حق میں بیان نہ دیدے۔

(جاری ہے)

جے آئی ٹی کے تیسرے خطر کے جواب پہلی بار قطری کی طرف سے کہا گیا کہ وہ پاکستانی قوانین کے تابع نہیں ہیں۔ جے آئی ٹی کسی بھی طرح قطر کو بیان قلمبند کرانے چانس نہیں دینا چاہتی تھی جے آئی ٹی نے دعوٰی کیا کہ انہوںنے قطری کا بیان قلمبند کرنے کیلئے بھرپور کوشش کی جے آئی ٹی کا قطری شہزادے کے بیان سے متعلق جے آئی ٹی کی بددیانتی واضح ہے ۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈکو اتنا ایشو بنا رہے ہیں لیکن چیئرمین فری مین کو نہیں بلایا ، قطری کو پیشگی سوالنامہ نہیں بھجوایا لیکن فیری مین کو سوالنامہ بھجوانے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا فیری مین گواہ جو ملزمان کے موقف کی تصدیق کرسکتا تھا اسے شامل تفتیش نہیں کیا گیا ۔ عام طور پر ویڈیو ریکارڈنگ نہیں ہوتی اور آپ قطری شہزادے کو کہہ رہے ہیں کہ ویڈیو ریکارڈنگ ہوگی ۔

جے آئی ٹی نے قطری کو پریشان کرنے کی کوشش کی ۔۔حسین نواز کی تصویر لیک کی گئی ۔ کیا کریڈیبلٹی رہ گئی تھی کہ قطری شہزادے کی تصویر لیک نہ ہوئی یہ قطری کا بیان تو ریکارڈ کرتے قطری نے کہا کہ میں آپ کی ٹیم سے ملنے کو تیار ہوں قطری نے کہا کہ عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں ہوں مگر آپ آئیں تصدیق کرنے کو تیار ہوں ۔ قطری نے تیسری بار کہا میں ایسے خطوط کی تصدیق کرتا ہوں ۔

خواجہ حارث نے مزیددلائل دیتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کے کیپٹل ایف زیدی۔۔۔ میں ملازمت کے کنٹریکٹ سے متعلق خود ساختہ دستاویز پیش نہیں کی گئی ۔جے آئی ٹی نے کیپٹل ایف زیدی کی دستاویزات کیلئے کوئی ایم ایل اے نہیں لکھا ۔ جے آئی ٹی نے کے جن نے دبئی جا کر دستاویزات حاصل کیں ان کو بطور گواہ نہیں کیا گیا ۔ ان کی طرف سے کوئی ایسی دستاویزات نہیں لی گئی جس سے ظاہر ہوتا کہ ۔

۔سلطان ہمارے مجاز افسر تھے۔ نواز شریف کے وکیل ایف زیدی میں ملازمت کی دستاویزات قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ دستاویزات پر موجودہ میر کی تصدیق کیسے ہوگی ۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ شہاب سلطان نے انکے سامنے دستخط نہیں کیے نہ ہی وہ ان سے ملے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ جغرا نے کسی کی درخواست پر دستاویزجاری کی۔ استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے نواز شریف کی ملازمت کے ایک معاہدے میں ترمیم کی گئی ۔

استغاثہ کی طرف سے نہیں بتایا گیا کہ یہ ترمیم کس نے کی اس کی دستاویزات یو اے ای کے قانون کے مطابق ہی تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ جے آئی ٹی کے ممبران دبئی گئے بھی تھے کہ نہییں سنی سنائی باتوں پر کام کیا گیا ۔ تنخواہ کے حوالے سے تعریف نہیں کی گئی جس پر کوئی نام نہیں لکھا ہوا کہ وہ کس نے کی ۔ خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کرلئے۔ ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت آج 28جون بروز جمعرات تک ملتوی کردی گئی ۔ آج مریم نواز کے وکیل امجد پرویز اپنے حتمی دلائل دیں گے۔