سیکرٹری الیکشن کمیشن کے خدشات درست ثابت ہوئے،

نگران حکومت پرامن الیکشن کیلئے دہشت گردی کو روکے‘شجاعت حسین امیدواروں، ووٹروں کو تحفظ دینا حکومت کا فرض ہے، عوام جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کے عملی علمبرداروں کو ووٹ دیں

پیر جولائی 19:04

سیکرٹری الیکشن کمیشن کے خدشات درست ثابت ہوئے،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جولائی2018ء) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں پرامن الیکشن کا راستہ روکنے والی قوتوں کے بارے میں سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد کے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں، وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے سینئر بیوروکریٹ ہیں، نگران حکومت کو چاہئے کہ ان کے سینیٹ کمیٹی میں دئیے گئے بیانات کو سنجیدگی سے اہمیت دیتے ہوئے انتخاب دشمن عناصر کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے ایسے فوری اور مؤثر اقدامات کرے کہ انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ تمام امیدواروں، ان کے حامیوں اور ووٹروں کو تحفظ فراہم کرے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ انتخابی مہم کے حالہ چند روز میں پاکستان دشمنوں نے دہشت گردی کی انتہا کر دی ہے، بلوچستان میں عظیم محب وطن سراج رئیسانی اور پشاور میں ہارون بلور سمیت 200 افراد کو جس طرح شہید کیا گیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور یہ نہ صرف حکومت، الیکشن کمیشن بلکہ پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے، الیکشن کمیشن کا کام صرف الیکشن کی مانیٹرنگ اور نگران حکومت کا کام الیکشن کرانا نہیں بلکہ انتخابی مہم اور پولنگ کیلئے پرامن ماحول فراہم کرنا بھی اس کا فرض ہے تاکہ سراج رئیسانی جیسے دوسرے محب وطن بھی دشمن کی دہشت گردی کا نشانہ نہ بن سکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سراج رئیسانی قومی یکجہتی کے ایک دبنگ علمبردار کا کردار ادا کر رہے تھے، 23 مارچ کو یوم پاکستان پر ان کا بیان ملک دشمنوں کے سینے پر مونگ دل رہا تھا اور ان کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں نگران حکومت کا فرض ہے کہ وہ امن و امان کو برقرار رکھے وہاں عوام کو بھی چاہئے کہ وہ جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر 25 جولائی کو صرف ان امیدواروں کو ووٹ دیں جو پاکستان کی سلامتی، یکجہتی اور قومی سربلندی پر نہ صرف دل سے یقین رکھتے ہیں بلکہ اس کیلئے عملی کام بھی کریں گے۔

چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے انتخابی مبصرین کے مشاہدات سے ہمیں نہ صرف آگاہی ہونی چاہئے بلکہ ان کو اہمیت بھی دینی چاہئے۔